خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 406

خطبات مسرور جلد 12 406 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء وہ میں جماعت کو دینا چاہتا ہوں اور جماعت کو دے رہا ہوں۔تو یہ بھی ہے کہ ان کو اس طرح کوئی دنیاوی لالچ بھی نہیں تھا۔وہ کم از کم بیس پچیس لاکھ کی جائیداد انہوں نے جماعت کو دی۔ان کی وفات بھی بڑے سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوئی اور صدر مملکت نے وہاں اپنے سٹیٹ ہاؤس میں ان کا جنازہ منگوایا وہیں پڑھوایا حکومتی پروٹو کول پورا دیا۔جنازہ لے جانے کے لئے حکومت کی جانب سے پولیس اور آرمی اور پیرا ملٹری فورسز کی گاڑیوں نے مکمل اعزاز دیا۔پھر وہاں پوری کا رروائی ہوئی اور سٹیٹ ہاؤس میں مختلف وزراء نے ،صدر مملکت کے نمائندے نے جو سپیکر آف پارلیمنٹ تھے اور اسی طرح نائب صدر مملکت نے بھی ان کے بارے میں وہاں خیالات کا اظہار کیا۔اعزاز کے ساتھ پورا پروٹوکول ان کو دیا گیا۔اور پھر اسی طرح وہاں کے جو مختلف مذہبی رہنما تھے اور عیسائیوں وغیرہ نے بھی ان کے حق میں بہت کچھ کہا۔ہمارے مشنری فرید صاحب جو جامعہ احمد یہ گھانا کے پرنسپل ہیں انہوں نے اسلام کا زندگی اور موت کا جو فلسفہ اور نظریہ ہے قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے ساتھ وہ بیان کیا۔بہر حال ایک پورے اعزاز کے ساتھ ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں سے لے جایا گیا اور مقبرہ موصیان گھانا میں ان کی تدفین ہوئی اور میڈیا پر بھی کافی کوریج ہوئی۔گھانا ٹیلی ویژن نے پوری کوریج دی اور سٹریمنگ (streaming) پر دنیا میں بھی دکھائی گئی۔ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ مریم وہاب صاحبہ اور چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور خلافت اور جماعت سے ویسا ہی پختہ تعلق رکھیں جیسا ان کا اپنا تھا اور یہ اپنے بچوں اور بیوی کے لئے چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ صبر اور حوصلہ بھی ان کو عطا فرمائے اور وہاب صاحب کے درجات بلند فرمائے اور اپنے پیاروں کے قرب میں ان کو جگہ عطا فرمائے۔نماز کے بعد انشاء اللہ ان کا جنازہ غائب بھی پڑھوں گا۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 18 جولائی 2014 ء تا 24 / جولائی 2014 ءجلد 21 شمارہ 29 صفحہ 05تا09)