خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 393
خطبات مسرور جلد 12 393 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء ضرورتمندوں کی مدد کرتی ہے۔جماعت احمد یہ گھانا نے ان کے دورامارت میں اللہ کے فضل سے بڑی ترقی کی ہے۔اللہ کے فضل سے کچھ تو سکول پہلے تھے، کچھ اور کھلے۔کچھ نئے سرے سے اسٹیبلش (Establish) ہوئے ، مزیدان میں بہتری پیدا ہوئی۔جماعت احمدیہ کے چارسو سے زائد سکول ہیں۔اس کے علاوہ ٹیچر ٹریننگ کالج ، جامعتہ المبشرین، جامعہ احمدیہ انٹر نیشنل نمایاں ہیں۔اسی طرح سات بڑے ہسپتال ہیں۔دو ہو میو پیتھک کلینک ہیں جو گھانا میں خدمت کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ رفاہ عامہ کے کام جاری ہیں۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جماعت کو غیر معمولی مقام ملا ہے۔گھانا کی دو مشہور شاہرا ہیں جو ہیں ان پہ انہوں نے بڑی کوشش سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بڑی بڑی تصویر میں آویزاں کروائی ہیں اور ہر آنے جانے والا وہ دیکھتا ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے جس مسیح کے آنے کا انتظار تھاوہ آ گیا اور وہ یہ ہیں۔اس طرح یہ کھل کے وہاں تبلیغ بھی کر رہے ہیں۔ان کو جو دنیا وی اعزازات ملے وہ یہ ہیں کہ کوریا میں انٹر ریجس (Inter Religious) اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈ پلیس امریکہ کی طرف سے امن کے لئے بے لوث اور شاندار خدمات کی بنا پر Ambassador for Peace کا اعزاز دیا گیا۔اسی طرح گورنمنٹ آف گھانا کی طرف سے امیر صاحب گھانا کو ان کی شعبہ تعلیم ، صحت، زراعت اور ملکی امن و استحکام کے لئے خدمات کے اعتراف میں ایک اہم ملکی اعزاز Companion of the Order of the Volta سے نوازا گیا۔پھر 10 نومبر 2007ء کو آپ کی قابلیت کے اعتراف میں ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی، یو نیورسٹی آف کیپ کوسٹ (University of Cape Coast) نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے ان کو نوازا۔یہ نیک نیتی سے کئے گئے وقف کی برکات ہیں کہ دین کی خدمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی اعزازات سے بھی نوازا۔اگر وقف نہ ہوتے تو پتا نہیں کوئی اور کام کر رہے ہوتے اور کسی کو پتا بھی نہیں ہونا تھا کہ وہاب صاحب کون ہیں۔پھر انٹر نیشنل سطح پر ان کی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں۔سینٹر فار ڈیموکریٹک ڈیویلپمنٹ گھانا ( Centre for Democratic (Development(CDD)Ghana) کے ممبر تھے۔Ghana Integrity Initiative کے وائس چیئر مین تھے۔نیشنل پیس کونسل (National Peace Council) کے ممبر تھے اور وہاں کی سیاسی حکومتوں کو آپس میں امن