خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 388
خطبات مسرور جلد 12 388 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء بمطابق 27 احسان 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دعوئی سے پہلے بھی یہ الہام ہوا، پھر آخر تک کئی مرتبہ ہوا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ( تذکرہ صفحہ 39 ایڈیشن چہارم) یعنی تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم الہام کریں گے۔اور 1907ء میں اس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجَ عَمِيقٍ ( تذکر صفحہ 623 ایڈیشن چہارم) وہ دور دراز جگہوں سے تیرے پاس آئیں گے۔یہ الہام بڑی شان سے مختلف شکلوں میں مختلف صورتوں میں اب تک پورا ہوتا چلا جارہا ہے۔مختلف لوگ مختلف علاقوں سے آپ کے پاس آتے ہیں۔یعنی آپ کی زندگی میں آپ کے پاس آتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے ذریعہ جاری نظام خلافت میں خلفاء وقت کے پاس آتے رہے اور آ رہے ہیں جو مددگار بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کے دلوں کو اس طرف مائل کرتا ہے کہ مددگار بنیں بلکہ مدد اور خدمت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو مکمل کرنے کی ایک تڑپ اور لگن ان میں پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہ اپنے تن من دھن سے اس کام میں جت جاتے ہیں اور آپ کے سلطان نصیر بن جاتے ہیں۔خلفائے وقت کے دست و بازو بن جاتے ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو قرآنی حکم تفقہ فی الدین کے مطابق دین کا علم حاصل کر کے اپنے ہم قوموں کو دین حق کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس میں اپنی زندگیاں قربان کر دیتے ہیں۔بہت سے ایسے دُور دراز علاقوں سے آئے جہاں بیسویں صدی کی چھٹی ساتویں دہائی تک رسل و رسائل اور خط و کتابت کا یہ حال تھا کہ چھ چھ