خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 386

خطبات مسرور جلد 12 386 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014 ء کارکنوں کے لئے لایا کریں۔امیر صاحب جرمنی ایک یہ جواب دیتے ہیں کہ اگلے سال ہم اس کمپنی کو بدل دیں گے جن سے یہ ساؤنڈ سسٹم لیا تھا، ان کی negligence ہے۔یہ تو بالکل بچگانہ باتیں ہیں۔اگر بدل کر پھر بے احتیاطی کرنی ہے، تو پھر یہی نتیجے نکلیں گے۔جب تک ہر معاملے میں مکمل اطاعت کی عادت نہیں ڈالتے ، بات سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اس وقت تک یہی کچھ ہوتا رہے گا۔یہ غلطیاں اور چھوٹی چھوٹی خامیاں سامنے آتی رہیں گی۔اب بیعت کے وقت میں بھی آواز بند ہو گئی۔اس کے بھی کئی بہانے ہیں۔یہ تو اچھا ہوا کہ میں نے بیعت کے الفاظ دوبارہ دہرا دیئے۔دنیا سے فوراً شکریہ کی فیکسیں آنی شروع ہوگئی تھیں کہ آپ نے الفاظ دہرا دیئے ، بڑا اچھا کیا۔ورنہ ہمیں تو آواز نہیں پہنچی تھی اور ہم بیعت کے الفاظ سے محروم رہ گئے تھے اور خاص طور پر پاکستان والے کہتے ہیں کہ جب بیعتیں ہوتی ہیں تو عموماً انگریزی میں الفاظ دہرائے جاتے ہیں۔اردو کی بیعت بہت کم ہوتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اردو میں بیعت ہو تو ان کی طرف سے بہت زیادہ اس بات کا اظہار ہوا۔تو اس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔اسی طرح انتظامیہ جرمنی جو ہے ان کو کھانے کے معاملے میں پچھلی دفعہ بھی میں نے توجہ دلائی تھی۔اب مجھے پتا چلا ہے کہ وہاں روٹی جو استعمال کی گئی ہے اس میں بعض دفعہ بعض ایسے پیکٹ تھے جن کی تاریخ ایکسپائر (expire) ہوئی ہوئی تھی۔اس بارے میں بھی ان کو تحقیق کر کے رپورٹ دینی چاہئے۔اور ان تمام کمیوں اور خامیوں کو یہ جو سامنے آگئیں یا مزید کارکنوں سے پوچھ کے جو بھی ہیں ، جیسا کہ میں نے کہا ہوا ہے ایک لال کتاب بنانی چاہئے۔اس ریڈ بک (Red Book) میں سب خامیاں اور کمیاں سارا کچھ لکھا جانا چاہئے اور پھر ان کو دیکھ کر آئندہ سال کے لئے بہتری کے سامان بھی کرنے چاہئیں، پڑھنا بھی چاہئے ، صرف یہ نہیں کہ لکھ لیا۔اس پر غور سارا سال ہونا چاہئے کہ کس طرح ہم اس کو بہتر سے بہتر کر سکتے ہیں۔بہر حال عملی طور پر بہتری کریں تبھی اس کا مداوا ہو سکتا ہے،صرف باتوں میں نہیں۔اور اگر تو جہ ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے۔کینیڈا کی جماعت میں بھی ایک سال اسی طرح ہوا تھا۔اُن کو میں نے توجہ دلائی اور انہوں نے توجہ کی عملی اقدام اٹھائے۔اب وہاں کے لوگ لکھتے ہیں کہ بہت بہتر انتظام ہے۔اس لئے کہ انہوں نے بات کو سنا اور اس پر عمل کیا یا عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔جرمنی والے بھی اس اصول پر چلیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ بہتری ہوگی۔عام کارکن اور افراد