خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 377
خطبات مسرور جلد 12 377 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014 ء کہ اتنے زیادہ لوگ اتنے پیار سے اور مہذبانہ طریقے پر ا کٹھے رہ رہے ہیں۔ایک مہمان حسین صاحب تھے۔وہ میری تقریر سننے کے بعد کہتے ہیں خطاب تو بڑا اچھا لگا۔بہت سی باتوں پر یقین نہیں ہے لیکن پھر بھی مجھے خطاب اچھا لگا۔جلسے کا ماحول حیرت انگیز تھا اور یہ کیونکہ مسلمان ہیں اس لئے انہیں خطاب بھی بہر حال اچھا لگا، باتیں بھی اچھی لگیں، جماعت کا اطاعت کا جذ بہ بھی اچھا لگا لیکن کہتے ہیں مجھے پھر بھی اختلاف ہے۔ایک مہمان ڈومینک (Dominik) صاحب کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کے خطاب سے ہماری معلومات میں اضافہ ہوا۔جماعت کا پہلے سے کچھ تعارف تو تھا لیکن خلیفہ کی تقریر سننے کے بعد بہت سی نئی باتوں کا علم ہوا۔پھر ایک مہمان کہتے ہیں آپ نے آج رواداری اور مساوات کی جو تعلیم پیش کی ہے یہ بہت ہی اعلی تعلیم ہے۔یہ جرمن قانون کے عین مطابق ہے۔میرے ساتھ یو نیورسٹی میں ایک احمدی پڑھتا ہے اور اس کے عمل سے نظر آتا ہے کہ احمدی مسلمانوں اور دوسرے مسلمانوں میں فرق ہے۔پس یہ عملی فرق ہے جو ہم نے ہر سطح پر ہر طبقے میں دکھانا ہے اور دکھانا چاہئے اور یہ بہت بڑا ذ ریعہ ہے تبلیغ کا۔اس لئے ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ اس کے عملی نمونوں کی طرف لوگوں کی نظر ہے۔ایک جرمن کہتے ہیں کہ یوں لگتا تھا کہ یہ خلیفہ کا خطاب میں نے لکھا ہے کیونکہ اس کا ہر لفظ میرے دل کی آواز تھی۔مسجد کے سنگ بنیاد کے دوران ویز بادن شہر کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر نے لارڈ میئر کی نمائندگی میں اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے بہت ساری باتوں کے علاوہ یہ کہا کہ آپ کی جماعت شہر میں مختلف موقعوں پر اور پروگراموں میں بڑا فعال اور مثبت کردارادا کر رہی ہے۔آپ یہاں غیر قوموں کے لوگوں سے تعلق قائم کرنے میں سب سے آگے ہیں۔آپ غیر مسلموں میں وہ خوف دور کرتے ہیں جو بعض دوسرے شدت پسند مسلمانوں کے رویہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔آپ ہمیشہ امن کے قیام کی کوشش کرتے ہیں۔صوبہ بیسن (Hessen) کی صوبائی حکومت کی نمائندگی میں وزارت انٹیگریشن کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہے کہ اس طرح آج میں ایک تقریب میں شامل ہورہاہوں اور مسجد کی مبارکباد پیش کی۔پھر بعض مہمان جو مسجدوں میں آئے ان کے تاثرات یہ ہیں۔ایک قطعہ زمین جو ہم نے مسجد