خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 367
خطبات مسرور جلد 12 367 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014 ء چاہئے۔ہمارے مہمان نوازی کے جو اعلیٰ معیار کے طریق ہیں وہ نظر آنے چاہئیں جس کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔یہ چائے وغیرہ کا میں نے ذکر کیا، ہلکی پھلکی ریفرشمنٹ دی جاتی ہے، وہاں کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اس میں بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ یہاں کے لوگوں کو کیا پسند ہے۔لیکن اگر کھانے کی دعوت ہو اور غیر مہمان بلائے ہوں تو پھر ان کے مزاج کے مطابق کھانا بھی ہونا چاہئے ،ہلکی مرچ کا کھانا بھی ہونا چاہئے اور ایسا ہو جو یہ پسند کرتے ہیں۔حلال اور طیب کھانے بھی ان کے مزاج کے مطابق بنائے جاسکتے ہیں۔چند دن پہلے میونخ میں مسجد کا افتتاح تھا۔وہاں ممبر آف پارلیمنٹ بھی میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ڈسٹرکٹ گورنر اور میئر اور مختلف لوگ تھے۔ان کے لئے تو تھوڑا سا کھانا جو چند ایک کے لئے تھا نسبتاً بہتر تھا لیکن عمومی طور پر ڈھائی تین سو کے قریب جرمن لوگ آئے ہوئے تھے اور اچھی تعداد تھی اور معززین تھے۔ان کے لئے کھانا جو مجھے نظر آ رہا تھا وہ بالکل ایسا تھا جیسے ٹالنے کی کوشش کی گئی ہے۔بعض لوگوں نے شاید کھانا کھایا بھی نہیں۔ایک فنکشن ہوتا ہے جس میں معززین بلائے جاتے ہیں۔لوگ اس لئے بھی آتے ہیں کہ خلیفہ وقت کی موجودگی ہے۔ان کی مہمان نوازی کا تو حق ادا کیا کریں۔اگر مقامی جماعت خرچ نہیں کر سکتی تو ملکی مرکز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مہمان نوازی کرے۔بہر حال فنکشن تو بہت اچھا تھا، کافی لوگ تھے۔جو ہال میں بیٹھنے کی جگہ انہوں نے لی ہوئی تھی وہ بھی اچھی تھی۔اس کی تفصیل تو بعد میں بیان کروں گا لیکن بہر حال جو کمی تھی اس طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے کیونکہ نہیں تو پھر ہمیں عادت پڑ جائے گی۔پھر یہ بھی یادرکھیں کہ جو مہمان خاص طور پر ان دنوں میں آتا ہے جب میں یہاں آؤں تو میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ان کی احسن رنگ میں مہمان نوازی آپ کا فرض ہے۔اور یہ مستقل مہمان نوازی کرنے کی جو ضیافت کی ٹیم ہے ان کا فرض ہے اور جس جس شہر میں جایا جائے وہاں کے مقامی لوگوں کا فرض ہے۔اور کسی قسم کے ایسے اظہار کے بغیر مہمان نوازی کرنی چاہئے کہ مہمان بوجھ بن رہے ہیں۔جس سے کسی بھی قسم کی جذباتی تکلیف کسی کو پہنچنے کا احتمال ہو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے تو صدقہ دے کر احسان جتانے والے کو بھی بڑا نا پسند فرمایا ہے کہ اچھی بات کہنا اس سے بہتر ہے کہ کسی کی مدد کر کے پھر احسان جتاؤ کیا ایسے الفاظ کہو جس سے اس کو تکلیف پہنچے اور مہمان نوازی تو مہمانوں کا حق ہے۔اس کی مہمان نوازی کر کے پھر باتیں بنانا یہ انتہائی گھٹیا فعل ہے۔بعض ایسے لوگ جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں، یہاں تک کر جاتے ہیں کہ میرے ساتھ جو لوگ آئے ہوئے ہیں ان سے بھی ایسی باتیں کرتے ہیں جو جذباتی ٹھیس پہنچانے والی ہوں۔فی الحال میں اشارہ سمجھا رہا ہوں۔