خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 358
خطبات مسرور جلد 12 اپنے وجود سے دست بردار ہو۔“ 358 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014 ء پھر آپ نے یہ بھی دعا دی کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے ان کے دل اپنی طرف پھیر دے“ شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 397 398) پس ہماری عملی اصلاح کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعائیں ہیں۔یہ دلی جذبات ہیں۔یہ درد ہے۔اور ان جلسوں کا مقصد بھی یہی عملی اصلاح ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ ان تین دنوں میں اپنی عملی اصلاح کے جائزے بھی لیتے رہیں اور اس طرف توجہ بھی دیں۔ہمارے یہ معیار اس وقت قائم ہوں گے جب ہم ایک فکر کے ساتھ اس کی کوشش کریں گے۔آپ علیہ السلام کا ایک ایک فقرہ اور ایک ایک لفظ دردانگیز اور ہمیں ہلا دینے والا ہے۔فرما یا اپنی روحانی آنکھوں کو اس طرح روشن کرو جس طرح تمہاری یہ مادی آنکھیں روشن ہیں۔ہماری آنکھوں کو ذراسی تکلیف پہنچے تو ہمیں بے چین کر دیتی ہے۔فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔آنکھوں کی ذراسی دھندلاہٹ ہمیں پریشان کرتی ہے۔اس کے لئے ہم کتنا تردد کرتے ہیں۔ہرایسی چیز سے اپنی آنکھوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری نظر پر اثر ڈالنے والی ہو۔برا اثر ڈالنے والی ہو۔کیا یہی کوشش ہم اپنی روحانی آنکھ کی روشنی اور اس کو صحت مند رکھنے کے لئے کرتے ہیں؟ ان تین دنوں میں اگر ہم تو جہ بھی دے رہے ہوں تو اس کے بعد باہر جا کر ہم پھر ایسے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں جو ہمارے روحانیت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔پس روحانی آنکھ کی روشنی چند دنوں کی بات نہیں بلکہ یہ تین دن تو اس روشنی کے قائم رکھنے کے لئے علاج کے طور پر ہیں۔اگر اس علاج کے بعد پھر بے احتیاطی ہوگی تو روحانی آنکھ کی روشنی متاثر ہوگی۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ حقیقی سو جا کھا وہی ہے جو نیک و بد میں پہچان کرنے والا ہو اور پھر جب پہچان ہو جاوے تو نیکی کی طرف جھک جاوے۔پھر وہ نیکیاں سرزد ہوں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور ان نیکیوں میں جہاں خدا تعالیٰ کی عبادت ہے وہاں خدا تعالیٰ کی مخلوق کا حق بھی ہے۔اب ایک مثال دیتا ہوں ایک حق جس کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے جماعت میں پریشانی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔جس کی عدم ادائیگی نے نہ صرف گھروں میں بے سکونی پیدا کی ہوئی ہے بلکہ کئی لڑکیاں جو پاکستان سے یا کئی دوسری جگہوں سے شادی ہو کر یہاں آتی ہیں ان کو اپنے گھروں سے دوری نے بھی انتہائی تکلیف میں مبتلا کیا ہوا ہے۔پھر پاکستان میں جو ان کے ماں باپ ہیں ان کی پریشانی کی وجہ سے ان