خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد 12 349 خطبه جمعه فرموده مورخه 06 جون 2014 ء کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ خلافت اور دنیاوی لیڈروں کا موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ویسے ہی غلط ہے۔بعض دفعہ دنیا وی لیڈروں سے باتوں میں جب میں صرف ان کو روزانہ کی ڈاک کا ہی ذکر کرتا ہوں کہ اتنے خطوط میں دیکھتا ہوں لوگوں کے ذاتی بھی اور دفتری بھی تو حیران ہوتے ہیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔پس کسی موازنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بعض لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کر دوں گو کہ پہلے بھی میں شرائط بیعت کے خطبات کے ضمن میں اس کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں کہ ہر احمدی خلیفہ وقت سے اس کے معروف فیصلہ پر عمل کرنے کا عہد کرتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ معروف کی تعریف انہوں نے خود کرنی ہے۔ان پر واضح ہو کہ معروف کی تعریف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے۔یہ پہلے ہی تعریف ہو چکی ہے۔معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو۔جس خلافت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق على منهاج النبوۃ قائم ہونا ہے، اس طریق کے مطابق چلنا ہے جو نبوت قائم کر چکی ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق یہ دائمی بھی ہے جو آپ کے کام کو آگے چلانے کے لئے ہے وہ قرآن وسنت کے منافی یا خلاف کوئی کام کر ہی نہیں سکتی اور یہی معروف ہے۔معروف سے یہاں یہ مراد ہے۔پس اطاعت کے بغیر دوسروں کے لئے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔یا پھر قرآن وسنت سے جو اختلاف کرنے والے ہیں یہ ثابت کریں کہ خلیفہ وقت کا فلاں فیصلہ یا فلاں کام قرآن وسنت کے منافی ہے۔یہاں یہ بھی بتادوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا ہے کہ خلفاء راشدین کے فیصلے اور عمل اور سنت بھی تمہارے لئے قابل اطاعت ہیں۔ان پر چلو۔(سنن ابی داؤد کتاب السنة باب فی لزوم السنة حديث 4607) پس یہ ثابت کرنے کے لئے کہ فیصلے غلط ہیں پہلے بہت کچھ سوچنا ہو گا۔جماعت میں رہتے ہوئے اگر کوئی بات کرنی ہے تو پھر ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے خلیفہ وقت کو لکھنا ہوگا۔لکھنے کی اجازت ہے۔ادھر ادھر باتیں کرنے کی اجازت نہیں۔یہاں سے وہاں بیٹھ کر غلط قسم کی افواہیں پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔تا کہ اگر سمجھنے والے کی سمجھ میں غلطی ہے تو خلیفہ وقت اس کو دور کر سکے اور اگر سمجھے کہ اس غلطی کو جماعت کے سامنے بھی رکھنے کی ضرورت ہے تو تمام جماعت کو بتائے۔جماعت جب بڑھتی ہے تو منافقین بھی اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔حاسدین بھی اپنا کام کرتے ہیں۔خلافت سے سچی وفا یہ ہے کہ ان کے منصوبوں کو ہر سطح پر نا کام بنائیں اور خلافت سے جو بعض بدظنیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے