خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 348

خطبات مسرور جلد 12 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء قیام کے لئے بھر پور کوشش یہ بھی خلافت کا کام ہے۔جبکہ دنیاوی لیڈروں کے تو دنیاوی مقاصد ہیں۔ان کا کام تو اپنی دنیاوی حکومتوں کی سرحدوں کو بڑھانا ہے۔اسی کی ان کو فکر پڑی رہتی ہے۔ان کا کام تو سب کو اپنے زیرنگیں کرنا ہے۔دنیا میں آپ دیکھیں اپنے ملکوں کی حدوں سے باہر نکل کر بھی دوسرے ملکوں کی آزادیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چاہے وہ ڈکٹیٹر ہوں یا سیاسی حکومتیں ہوں۔دنیاوی لوگوں کا تو یہ کام ہے۔ان کا کام تو جھوٹی اناؤں اور عزتوں کے لئے انصاف کی دھجیاں اڑانا ہے جو ہمیں مسلمان دنیا میں بھی اور باقی دنیا میں بھی نظر آتی ہے۔کون ساڈکٹیٹر ہے جو اپنے ملک کی رعایا سے ذاتی تعلق بھی رکھتا ہو۔خلیفہ وقت کا تو دنیا میں پھیلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدی سے ذاتی تعلق ہے۔ان کے ذاتی خطوط آتے ہیں جن میں ان کے ذاتی معاملات کا ذکر ہوتا ہے۔ان روزانہ کے خطوط کو ہی اگر دیکھیں تو دنیا والوں کے لئے ایک یہ نا قابل یقین بات ہے۔یہ خلافت ہی ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر احمدی کی تکلیف پر توجہ دیتی ہے۔ان کے لئے خلیفہ وقت دعا کرتا ہے۔کون سا د نیا وی لیڈر ہے جو بیماروں کے لئے دعائیں بھی کرتا ہو۔کون سا لیڈر ہے جو اپنی قوم کی بچیوں کے رشتوں کے لئے بے چین اور ان کے لئے دعا کرتا ہو۔کون سا لیڈر ہے جس کو بچوں کی تعلیم کی فکر ہو۔حکومت بیشک تعلیمی ادارے بھی کھولتی ہے۔صحت کے ادارے بھی کھولتی ہے۔تعلیم تو مہیا کرتی ہے لیکن بچوں کی تعلیم جو اس دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی فکر صرف آج خلیفہ وقت کو ہے۔جماعت احمدیہ کے افراد ہی وہ خوش قسمت ہیں جن کی فکر خلیفہ وقت کو رہتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔ان کی صحت کی فکر خلیفہ وقت کو رہتی ہے۔رشتے کے مسائل ہیں۔غرض کہ کوئی مسئلہ بھی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا چاہے وہ ذاتی ہو یا جماعتی ایسا نہیں جس پر خلیفہ وقت کی نظر نہ ہو اور اس کے حل کے لئے وہ عملی کوشش کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔اس سے دعا ئیں نہ مانگتا ہو۔میں بھی اور میرے سے پہلے خلفاء بھی یہی کچھ کرتے رہے۔میں نے ایک خاکہ کھینچا ہے بے شمار کاموں کا جو خلیفہ وقت کے سپر د خدا تعالیٰ نے کئے ہیں اور انہیں اس نے کرنا ہے۔دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں میں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔یہ میں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے۔یہ میرا فرض ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر میں فرض ادا کرنے والا بنوں۔