خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 340

خطبات مسرور جلد 12 340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء ہے۔ان کے مریض بھی اخباروں میں ان کی بڑی تعریفیں کر رہے ہیں۔کولمبس ڈسپیچ نے اپنی خبر میں مرحوم کے بڑے بیٹے کا انٹرویو لیا۔یہ لکھتا ہے کہ سولہ سالہ عبداللہ علی سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنے والد صاحب کے اس طرح قتل کئے جانے پر کیسا محسوس کر رہے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ I am۔disappointed۔نامہ نگار نے اس جواب کو پسند کرتے ہوئے خاص طور پر ذکر کیا کہ اس بچے کے دل میں غصہ یا انتقام کا جذ بہ نہیں۔Fox 28 Columbus نے بھی مرحوم کی شہادت کا ذکر کیا اور مرحوم کے بڑے صاحبزادے عبداللہ علی کا انٹرویو بھی شائع کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب ایک عظیم شخص تھے اور مجھے یقین ہے کہ اگر قاتل کچھ دیر رک کر آپ سے بات کرتے تو یقینا آپ ان کی زندگی میں بھی کوئی مثبت تبدیلی لے آتے۔انہوں نے یقتل صرف ایک ایسی جماعت کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا ہے جن کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے۔اور یہی حالت ہے۔مولویوں نے صرف زہر بھر دیا ہے۔خودان کو پتا ہی نہیں کہ کیا ہے کیا نہیں ؟ بی بی سی اردو نے بھی مرحوم کی شہادت اور احمدیوں کے خلاف ظلم و ستم کا ذکر کیا نیز طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے خلاف چھپنے والے پمفلٹ کا عکس بھی شائع کیا جس میں لکھا ہوا ہے کہ طاہر ہارٹ میں علاج کر وانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔نیز احمدیوں سے تعلق رکھنے والاخود بھی کافر ہوجاتا ہے۔انا للہ۔بہر حال یہ شہید تو اپنی زندگی میں بھی کامیابیاں دیکھتار ہا اور مخلوق خدا کی خدمت کرتا رہا اور موت بھی ایسی پائی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے دائمی زندگی دے گی۔اللہ تعالیٰ ہمارے اس پیارے بھائی کو جنت میں اعلیٰ درجے عطا فرمائے۔لمحہ لحہ ان کے درجات کی بلندی ہوتی رہے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں اس کو جگہ دے۔ان کے بیوی بچوں کو بھی اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ڈاکٹر صاحب شہید کی تمام نیک خواہشات اور دعا ئیں جو انہوں نے اپنے بچوں کے لئے کیں، انہیں قبول فرمائے۔جیسا کہ میں بتا آیا ہوں کہ ہماری ترقیات اور دشمن کو مغلوب کرنے کے لئے سب سے بڑا ہتھیار ہمارے پاس دعاؤں ہی کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ ظاہری سامان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے وہ بھی ساتھ ساتھ ہونے چاہئیں جس حد تک ہو سکتا ہے۔اس لئے ربوہ میں اس واقعہ کے بعد اب ربوہ میں انتظامیہ کو بھی پہلے سے زیادہ چوکس اور ہشیار ہونے کی ضرورت ہے۔اپنی تدبیروں اور وسائل کو انتہا تک پہنچائیں پھر معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑمیں اور پھر ربوہ کے ہر شہری کو بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔اس پیارے شہید