خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 334
خطبات مسرور جلد 12 334 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء اپنے بچوں کو قرآن کریم بھی انہوں نے خود سکھایا اور پڑھایا۔یہاں ہمارے بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی ہمیں وقت نہیں ملتا۔دوسروں کے معاملے میں عفو سے کام لینے والے۔خود تکالیف برداشت کر لیتے تھے اور پوچھنے پر یہی بتاتے تھے کہ اللہ کی رضا کی خاطر کر رہا ہوں۔ان کے ایک دوست ڈاکٹر محمود کہتے ہیں کہ ہم میڈیکل کالج میں روم میٹ تھے وہاں دیکھنے کا موقع ملا۔صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے اور میرے سے سینئر تھے اس لئے کوئی غلط کام دیکھتے تو بڑے پیار سے رہنمائی بھی فرماتے تھے۔خدمت خلق کا جذ بہ ہمیشہ غالب رہا۔ربوہ کا پہلا بلڈ بنک بھی ڈاکٹر مہدی علی شہید اور ڈاکٹر سلطان مبشر اور ڈاکٹر محمود صاحب نے شروع کیا لیکن اس میں زیادہ کوشش ڈاکٹر مہدی علی صاحب کی تھی۔اب یہ بلڈ بنک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اردگرد کے لوگوں کو بھی جب بھی خون کی ضرورت پڑے، خون مہیا کرتا ہے۔ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ شہید نہایت عاجز اور منکسر المزاج طبیعت کے مالک تھے۔ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔ابھی کچھ دن ہوئے مجھے مل کے گئے تھے۔جب سے ان کی شہادت کی خبر ملی ہے وہی مسکراتا چہرہ بار بار سامنے آ جاتا ہے۔بڑا پر سکون چہرہ تھا اور جیسا کہ بعض لکھنے والوں نے لکھا ہے شہادت کے وقت بھی جو ان کی تصویر دیکھی ہے سینہ خون سے بھرا ہوا ہے لیکن لگتا ہے بڑے پرسکون انداز میں سوئے ہوئے ہیں۔عبدالسلام ملک صاحب جو کولمبس جماعت کے صدر ہیں کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مہدی علی صاحب ہماری جماعت میں دس سال قبل آئے تھے اور شروع سے ہی ہماری لوکل عاملہ کے فعال رکن تھے۔جماعت کی اطاعت کا بھر پور جذ بہ ان کی ذات میں ودیعت تھا۔کبھی کسی بات پر argument نہیں کرتے تھے۔ہمیشہ خندہ پیشانی سے ہر بات قبول کرتے۔کبھی یہ نہ کہتے کہ یہ کام نہیں ہوسکتا۔جب بھی کوئی ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی ہمیشہ اسے عمدگی سے نبھایا۔خلافت سے ایک والہانہ رنگ میں عشق تھا اور جب میں 2012ء میں وہاں کولمبس امریکہ کے دورے پر گیا ہوں تو رات بھر جاگ کر مسجد کی آرائش اور خطاطی کا کام کرتے رہے۔کئی بینر لگائے اور ان کے بھائی بادی صاحب بھی ساتھ تھے اور رات بھر مسجد میں کام کرنے کے بعد صبح اپنے ہسپتال کی ڈیوٹی بھی پوری نبھائی۔اور پھر یہ کہ مسجد کی سجاوٹ پر جو بھی خرچ ہوا انہوں نے ہمیشہ اپنی جیب سے ادا کیا۔اور جب مسجد میں کام کر رہے ہوتے تھے تو کوئی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ آپ اتنے بڑے ڈاکٹر ہیں۔نہایت سادگی سے