خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 218
خطبات مسرور جلد 12 218 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ اسی الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 / اپریل 2014 ء بمطابق 11 شہادت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ایسے نشان کا ذکر کروں گا جو آج کے دن یعنی 11 اپریل 1900 ء میں ظاہر ہوا۔یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نشان عمل میں آیا۔یہ نشان آپ کا عربی زبان میں خطبہ ہے جو خاص تائید الہی سے آپ کی زبان پر جاری ہوا، بلکہ الہام میں ہی تھا۔یہ ایک ایسا نشان تھا جو الہامی تھا اس لئے اس کا نام ”خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔اس الہامی خطبہ اور اس الہامی کیفیت کو دو سو کے قریب لوگوں نے اُس وقت سنا اور دیکھا۔مجھے بھی کسی نے اس طرف توجہ دلائی کہ آج کے دن کی مناسبت سے جبکہ آج جمعہ بھی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عظیم الشان نشان کو بیان کروں کیونکہ ایسے احمدی بھی ہیں جو شاید خطبہ الہامیہ کا نام تو جانتے ہوں جو کتابی صورت میں شائع ہے لیکن اس کی تاریخ اور پس منظر اور مضمون کا علم نہیں رکھتے۔اور اس بات نے مجھے حیران بھی کیا جب یہ پتا چلا کہ بعض ایسے بھی ہیں جن کو پتا ہی نہیں کہ خطبہ الہامیہ کیا چیز ہے۔ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نشان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے دکھائے ایسے ہیں جو ہمارے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہیں اور مخالفین احمدیت کا منہ بند کرنے کے لئے ہمیں مواد مہیا کرتے ہیں۔آپ کی صداقت کی دلیل ہمیں مہیا کرتے ہیں۔اور خاص طور پر ایسے نشان جیسے خطبہ الہامیہ ہے یہ تو عظیم الشان نشانوں میں سے ہے۔جس نے بڑے بڑے علماء کے منہ بند کر دیئے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ مختصراً اس کا پس منظر اور تاریخ بیان کروں گا اور یہ بھی کہ اس نے اپنوں پر اس وقت کیا اثر کیا، کس کیفیت میں سے وہ