خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 183
خطبات مسرور جلد 12 183 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء تھیں۔ستر سال کی عمر میں بھی عموماً پیدل چل کر مسجد آتی رہیں۔اگر کوئی احمدی سڑک سے گزرتے ہوئے احترام کی وجہ سے گاڑی میں چھوڑنے کی پیشکش کرتا تو کہتیں کہ نہیں، مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم حدیث کے مطابق ثواب کا باعث ہے اس لئے مجھے پیدل جانے دو۔ڈیوٹیاں دیا کرتی تھیں۔سکیورٹی کی ڈیوٹیاں بھی دیا کرتی تھیں۔بہت سالوں تک مقامی لجنہ میں سیکرٹری مال اور سیکرٹری خدمت خلق کے فرائض احسن رنگ میں انجام دیتی رہیں۔کبھی کسی سے ذاتی عناد نہیں رکھا۔بچوں سے انتہائی شفقت سے پیش آتیں۔خطبہ سننے کی طرف ان کا خاص رجحان تھا۔ایم ٹی اے پر خطبہ سنتیں اور اس کی تحریک کیا کرتی تھیں اور جمعہ پر جانا تو خیر ان کو فرض تھا ہی۔بیٹا جمال الیاس جمعہ کی نماز پر کچھ ہفتے نہ آ سکا تو اس سے پوچھا کہ کیوں نہیں گئے۔اس نے بتایا کہ نئی جاب کی وجہ سے فی الحال چھٹی نہیں مل رہی تو اس کو خاص طور پر تنبیہ کی کہ جمعہ چھوڑ نانہیں چاہئے۔لیکن بہر حال اس کا بیٹے پر بھی یہ اثر تھا کہ وہ کہتا ہے کہ یہاں سے ایم ٹی اے پر جو میرا خطبہ آتا تھاوہ با قاعدہ ڈرائیونگ کے دوران بھی سن لیتا تھا۔تو ان کے بیٹے کی بھی ایسی تربیت تھی۔ایک لکھنے والے لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا بھی خوبصورت نشان تھیں اور خلافت پر فدا ہونے والی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان لوگوں کو بھی توجہ کرنی چاہئے جو لوگ ایم ٹی اے پر خطبے کو اہمیت نہیں دیتے اور سنتے نہیں۔اگر یہ سب ایم ٹی اے سے منسلک ہو جائیں اور جماعت کا ہر فرد اس پر توجہ دینی شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا تربیتی معیار بہت بلند ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی بھی سب کو توفیق دے۔مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بیٹے کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 11 اپریل 2014ء تا 17 اپریل 2014 ، جلد 21 شماره 15 صفحه 05 تا09)