خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 157
خطبات مسرور جلد 12 157 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء معرفت حاصل نہ ہو اور اس سے طاقت نہ ملے۔اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے کہ ہر ایک خوف اور محبت معرفت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔دنیا کی تمام چیزیں جن سے انسان دل لگاتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے یا ان سے ڈرتا ہے اور دور بھاگتا ہے۔یہ سب حالات انسان کے دل کے اندر معرفت کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔اور نہ مفید ہوسکتی ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور فضل کے ذریعہ سے معرفت آتی ہے۔تب معرفت کے ذریعہ سے حق بینی اور حق جوئی کا ایک دروازہ کھلتا ہے۔( یعنی سچائی پھر نظر بھی آتی ہے اور اس معرفت کے آنے سے سچائی کی تلاش کی طرف اور دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔اور پھر بار بار دور فضل سے ہی وہ دروازہ کھلا رہتا ہے۔( یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ فضل پھر دوبارہ دوبارہ آتا چلا جاتا ہے اور اس فضل کے آنے کی وجہ سے پھر یہ معرفت کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور بند نہیں ہوتا۔غرض معرفت فضل کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور پھر فضل کے ذریعہ سے ہی باقی رہتی ہے۔فضل معرفت کو نہایت مصفی اور روشن کر دیتا ہے اور حجابوں کو درمیان سے اٹھا دیتا ہے اور نفس اتارہ کے لئے گرد و غبار کو دور کر دیتا ہے اور روح کو قوت اور زندگی بخشتا ہے اور نفس اتارہ کو اتارگی کے زندان سے نکالتا ہے اور بدخواہشوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے اور نفسانی جذبات کے تند سیلاب سے باہر لاتا ہے۔تب انسان میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی گندی زندگی سے طبعاً بیزار ہو جاتا ہے کہ بعد اس کے پہلی حرکت جو فضل کے ذریعہ سے روح میں پیدا ہوتی ہے وہ دعا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں۔کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے“۔(ایک تیز سیلاب ہے۔کشتی بن جاتی ہے ( ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222-221) یہ معرفت کا مقام ہے۔پھر فرمایا کہ انسان گناہ کی طرف کیوں زیادہ گرتا ہے۔نفس اتارہ کیوں دلوں پر قبضہ کرتا ہے؟ اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ :۔گناہ پر دلیری کی وجہ بھی خدا کے خوف کا دلوں میں موجود نہ ہونا ہے۔لیکن یہ خوف کیونکر پیدا