خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 152

خطبات مسرور جلد 12 152 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014 ء ضرورت پر غور کریں۔یہ انتہائی مثبت قدم تھا۔میں جماعت احمدیہ کو اس تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اور میری خواہش ہے کہ یہ جماعت اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ کے ساتھ پید رو آباد میں مسجد بشارت کے سنگ بنیاد کے موقع پر 1981ء میں ملنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اس کے بعد چوتھے خلیفہ کے ساتھ اسی مسجد کے افتتاح کے موقع پر 1982ء میں ملنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اب اس کانفرنس کے ذریعہ مجھے جماعت احمدیہ کے پانچویں خلیفہ کے ساتھ ملنے کی بھی سعادت مل گئی۔میں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کے الفاظ سے بہت محظوظ ہوا ہوں۔انہوں نے جنگ و جدل سے آزاد ایک پر امن معاشرے کے قیام کے حوالہ سے بات کی ہے اور ان حکومتوں کی مذمت کی ہے جو دفاع کے نام پر اسلحہ کو انسانیت پر ترجیح دیتی ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ مرزا مسرور احمد نے ایک ایسے معاشرہ کے قیام کے لئے جس کی بنیاد انصاف اور با ہمی عزت و احترام پر ہو، مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی دعوت دی ہے۔ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو تضادات سے بھری پڑی ہے۔بعض ممالک ترقی کی انتہا کو چھو گئے ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھوک اور افلاس کی وجہ سے مررہی ہے۔ایک طرف ہم لاکھوں ٹن خوراک سمندر میں پھینک دیتے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کو کھانے کے لئے انتہائی مشکل کے ساتھ کچھ ملتا ہے۔ایک طرف کروڑ پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف معاشرے کے بعض طبقے انتہائی غریب ہو گئے ہیں۔ایک ایسی دنیا کے قیام کی ضرورت ہوگی جو جنگ کو ترک کر دے اور امن کی خواہاں ہو، جو سب کو ساتھ لے کر مشترکہ طور پر ترقی کرے، جو نا انصافی کے خلاف کھڑی ہو جائے اور معاشرتی انصاف کو فروغ دے۔“ بہر حال یہ چند تبصرے تھے جو میں نے پیش کئے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرے۔اُسے پہچانے اور خدا کو پہچانے سے ہی اس تباہی سے بچ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے کھڑی ہے جس کی وارننگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کلام میں، اپنی تحریرات میں بار ہادی ہے۔اس کے علاوہ میں آج پھر پاکستان کے حالات کے بارے میں بھی دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں۔دعا کریں اللہ تعالیٰ شر پسند لوگوں سے اس ملک کو بچائے اور احمدیوں کو بھی محفوظ رکھے اور اُن سب لوگوں کو محفوظ رکھے جو امن کے خواہاں ہیں اور اس فتنہ وفساد سے بچنا چاہتے ہیں اور اس کا حصہ نہیں۔اسی طرح