خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 151

خطبات مسرور جلد 12 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014ء ہوئے ہیں۔خطاب سننے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم یونیورسٹی میں اپنے طلباء کو قرآن کریم کا لیمش ترجمہ دیں گے تا کہ وہ قرآن کریم کو پڑھ کر اسلام کی حقیقی تعلیمات جان سکیں۔“ واپس جا کر ان کو وہاں ترجمہ دے دیا گیا ہے جو اپنی یو نیورسٹی میں تقسیم بھی کر رہے ہیں۔تو اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے مزید راستے بھی کھلے ہیں۔Santiago Catala Rubio سنتی آگو کتالہ روبیو ) صاحب سپین سے آئے تھے اور میڈرڈ یونیورسٹی میں ریلجز کے پروفیسر ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔جماعت کے ساتھ ان کا قریبی تعلق ہے۔یورپین پارلیمنٹ برسلز میں 2012ء میں جو تقریب ہوئی تھی وہاں بھی آئے تھے، مجھے ملے تھے۔کہتے ہیں : اگر عالمی مذاہب کی اس کانفرنس کے متعلق اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرنے لگوں تو اس کانفرنس کی اہمیت اور مسلم جماعت احمدیہ کے پیغام کی اہمیت کو بیان کرنے میں کئی صفحات بھر جائیں۔دنیا کی تاریخ میں مختلف مذاہب تنازعات کا باعث رہے ہیں۔حتی کہ آج کے دور میں بھی مختلف ثقافتوں مشرق و مغرب ، اسلام اور عیسائیت، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین اختلاف موجود ہے۔یہ اختلاف نفرت اور ظلم میں زیادتی کو ہوا دینے کے لئے بطور بہانہ پیش کیا جا سکتا ہے۔لیکن احمد یہ مسلم جماعت کا نعرہ محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں، تمام مذاہب کا خلاصہ ہے۔یہ نعرہ دنیا کے تمام مذاہب اور تمام لوگوں کو ان کے عقائد، حالات اور افکار سے بالا ہو کر یکجا کر دیتا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب مسلمانوں کا ایک خاص طبقہ لڑائی ، نفرت، ظلم ، دوسروں کی اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور اپنے ہی لوگوں پر حملہ کرنے کی حمایت کر رہا ہے جماعت احمدیہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس لئے اس قسم کی تقریبات کو عالمی سطح پر مذہبی اور نظریاتی کمیونٹیز میں بھر پور پذیرائی ملنی چاہئے۔“ میگل گارسیا ه (Miguel Garcia پید رو آباد کے ہیں۔کانفرنس میں شامل ہوئے تھے۔یہ میئر بھی رہ چکے ہیں۔اور انہوں نے اپنے دور میں اس وقت چرچ کی مخالفت کے باوجود 1980ء میں مسجد بشارت بنانے کی اجازت دی تھی۔مسجد بشارت کے افتتاح کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو بھی ملے تھے۔انہوں نے ان کو ایک فریم تحفہ دیا جس پر کلمہ لکھا ہوا تھا وہ انہوں نے اپنے دفتر میں بھی لگایا ہوا ہے۔جماعت سے کافی متاثر ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ مسلم جماعت احمدیہ کی طرف سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے وفود، ممبرز آف پارلیمنٹ، سیاسی شخصیات تعلیم دان اور مختلف انسانی ہمدری سے تعلق رکھنے والے اداروں کے نمائندگان کولندن میں جمع کیا گیا تا کہ وہ اتحاد اور امن کے قیام کیلئے ڈائیلاگ کی