خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد 12 148 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014 ء اظہار بھی کیا ہے کہ اسلام کی تعلیم جو مختصر پیش کی گئی تھی ، اُس کا اُن پر اثر ہے۔Stein Villumstad یورپین کونسل فار ریجس لیڈرز کے جنرل سیکرٹری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح مل جل کر بیٹھنا اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ایک دوسرے کی بات کو حو صلے سے سنا اور پھر سب کا یہ تسلیم کرنا کہ ہم سب امن کے خواہاں ہیں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔پھر انگلستان میں گریناڈا (Grenada) کے ہائی کمشنر HE Joselyn Whiteman یہ کہتے ہیں کہ یہ بہت زبردست تقریب تھی۔یہ خیال کہ اتنے سارے مذاہب ایک ہی چھت کے نیچے اس طرح اکٹھے ہو سکتے ہیں ہمارے ایمانوں میں اضافہ کا باعث ہے۔اور اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل دنیا کے مسائل کے حل کے لئے لوگوں کو اکٹھا کس طرح کیا جاسکتا ہے“۔پھر Mak Chishty ، جولنڈن میں میٹرو پولیٹن پولیس میں کمانڈر ہیں، کہتے ہیں کہ ” مجھے آج کی تقریب میں یہ بات اچھی لگی کہ ہر کسی نے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیں۔دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی نہیں کی۔اور اسی چیز سے ہم میں باہم اتحاد اور یگانگت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔“ یہی بات ہے جس کو کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ملکہ کو لکھا بھی تھا کہ (ایسا) ہونا چاہئے۔(ماخوذ از تحفہ قیصریه، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 261) پھر یورپین پارلیمنٹ میں لندن کے جو نمائندے ہیں Dr۔Charles Tannock MEP وہ کہتے ہیں کہ مستقبل میں اس رستہ کو اپنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ہم سب خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم یہ نہیں مان سکتے کہ خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہم مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے اس طرح لڑتے چلے جائیں۔اس لیے میں امن کے اس پیغام کی پر زور تائید کرتا ہوں۔احمدیوں کے بارے میں جس بات کو میں قابل قدر جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان کے مذہب کی تعلیمات کا مرکز محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں ہے۔میرے خیال میں یہ ایک عالمی نوعیت کا پیغام ہے۔جس قدر مختلف مذاہب مل بیٹھ سکیں اتنا ہی بہتر ہے۔“ Baroness Berridge جو انگلستان کی پارلیمنٹ کی 'آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ (APPG) آن انٹرنیشنل فریڈم آف ریجن کی چیئر پرسن ہیں۔کہتی ہیں : ” مجھے آل پارٹی گروپ برائے مذہبی آزادی کی چیئر مین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔میں جانتی ہوں کہ احمد یہ کمیونٹی کس طرح دوسروں کی