خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 144

خطبات مسرور جلد 12 144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014ء انگلستان کے لئے جماعت احمد یہ انگلستان کی طرف سے اپنے صد سالہ جشن کے موقع پر Guildhall میں اس عظیم الشان جلسہ ہائے مذاہب عالم کا انعقاد باعث مسرت ہے۔ملکہ عالیہ کو اس جلسہ کے مقاصد جان کر بہت خوشی ہوئی اور وہ آپ کے پیغام بھجوانے کی درخواست پر بہت ممنون ہیں۔ملکہ عالیہ کی آپ سب کے لئے دلی تمنا ہے کہ جلسہ ایک کامیاب اور یادگار جلسہ ہو جائے۔یہ تو غیروں کے کچھ تاثرات تھے۔جو میں نے وہاں کہا اُس کا خلاصہ بھی بیان کر دوں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بہت سارے لوگوں نے لگتا ہے سنا بھی نہیں اور اخبار میں اس طرح کھل کے آیا نہیں۔جو میں نے کہا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ انسانوں کی اصلاح ہو اور انسان خدا تعالیٰ کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور اُس کی مخلوق کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں۔اور اسی مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے۔جو انبیاء کی بات سنتے ہیں وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔جنہوں نے انکار کیا وہ بد انجام کو پہنچے۔ہر وہ قوم جس نے انبیاء اور مذہب کی مخالفت کی ، خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کا انکار کیا، خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار کیا اور یہ کہا کہ یونہی باتیں ہیں۔نہ کوئی خدا ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی عذاب ہے، نہ سزا ہے۔ایسی تمام قومیں پھر ختم ہو گئیں۔قرآن کریم ایسی قوموں کی تاریخ سے بھرا پڑا ہے۔مختلف جگہوں پر اس کا بیان ہے۔اسی طرح دوسرے مذاہب کی کتب بھی اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کے منکر تباہ ہو گئے۔پس یہ باتیں ہمیں سوچنے پر مجبور کرنے والی ہونی چاہئیں کہ یہ قصے کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ہر مذہب کی تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے کہ یہ سچ تھا۔پھر میں نے بتایا کہ میں جس آسمانی کتاب کو مانتا ہوں وہ قرآن کریم ہے۔اور وہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ انبیاء کوبھیج کر اس بات کو رائج کرنا چاہتا ہے کہ انسان روحانیت کے اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اور اُس کا حق ادا کرے۔اسی طرح اعلیٰ اخلاق کے معیار قائم کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرے۔میں نے پھر بتایا کہ جب خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا تو آپ نے اس کے حصول کے لئے تبلیغ کو انتہا تک پہنچایا۔اور صرف تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ راتوں کو اس شدت سے اس کے نتائج حاصل کرنے اور لوگوں کے دلوں اور سینوں کو کھولنے کے لئے دعائیں کیں کہ آپ کی سجدہ گا ہیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھیں۔آپ کے دل میں انسانیت کی اصلاح اور اُسے تباہی سے بچانے کے لئے جو درد تھا وہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔آپ کی اس تڑپ اور دعاؤں