خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد 12 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء ہم آپ کو مسجد بھی بنا کے دے دیں گے۔گاؤں کے چیف نے اُسے کہا کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں اور اب عمر کے آخری حصہ میں ہوں۔میں نے کبھی اپنے گاؤں کی بچی کو قرآن کریم پڑھتے اور اسلامی باتیں کرتے نہیں دیکھا۔مگر یہ جماعت احمدیہ کی برکت ہے کہ میری چھوٹی بچیاں مجھے دعا ئیں اور حدیثیں سناتی ہیں۔اس لئے اس پہلی دفعہ کی تو میں تمہیں معافی دیتا ہوں جو تم شور مچا رہے ہو۔اگر آئندہ ادھر کا رخ کیا تو گاؤں کے لڑکوں سے تمہاری پٹائی کروا دوں گا۔مولویوں نے یہ بات سنی تو فوراً ( ہوتے تو ڈرپوک اور بزدل ہیں) گاڑی میں بیٹھے اور وہاں سے بھاگ گئے۔بورکینا فاسو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ بنفورا ریجن کی ایک جماعت نیا کارا (Niankara) ہے۔وہاں کے گاؤں میں دو سو دس افراد ہیں جو اس سال بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔اس گاؤں کے دو خاندان ایسے ہیں جن کا تعلق انصار دین فرقہ سے ہے۔انہوں نے خوب زور لگا یا اور انفرادی ملاقاتیں کر کے احمدی افراد کو مجبور کیا کہ جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں اور انصار دین فرقے سے اپنا تعلق جوڑیں۔لیکن احمدی افراد نے ان باتوں پر کان نہیں دھرے بلکہ ہمیں بتایا کہ ہم پر بڑا دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ جس قدر احمدیوں کی تبلیغ و تربیت نے ہمیں مطمئن کیا ہے، ہم احمدیت سے الگ ہو کر پھر اندھیروں میں واپس نہیں جانا چاہتے۔اور انہوں نے با قاعدہ چندے بھی دینے شروع کر دیئے ہیں۔اسی طرح ببینن کی ایک جماعت کوجر ومیدے ہے، چھوٹا سا گاؤں ہے کو جر و میدے (Kodjromede)۔وہاں کے ایک شخص کریم نامی نے بیعت کی تھی۔دو تین ماہ گزرنے کے بعد اس نے مولویوں کے زیر اثر آ کر مخالفت شروع کر دی تو ایک دن معلم نے امیر جماعت کو بتایا کہ اس شخص نے جماعت کے خلاف سخت بدزبانی کی ہے تو انہوں نے اُسے کہا کہ کوئی بات نہیں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر ایک مرتد ہوگا تو وہ اپنے فضل سے ایک جماعت عطا فرمائے گا۔کہتے ہیں کہ اُسی دن یہ معلم صاحب اور امیر صاحب اکونو پے (Akonopey) گاؤں ہے، اُس کا جو بادشاہ ہے، جو چیف ہے وہ مقامی بادشاہ کہلاتے ہیں ، اُن کو تبلیغ کرنے گئے تو وہ اللہ کے فضل سے احمدی ہو گیا۔پھر ایک واگا(Waga) گاؤں ہے، اُس گاؤں کے بھی دو آدمی وہاں موجود تھے۔انہوں نے کہا آپ ہمارے گاؤں میں بھی آئیں اور تبلیغ کریں تو مغرب کی نماز اُن کے گاؤں میں ادا کی اور تبلیغ کی تو بتیس افراد نے احمدیت قبول کر لی۔اس طرح گاؤں میں ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔اور وہی شخص جو بدزبانی کیا کرتا تھا وہ پولیس کوکسی مقد مے