خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد 12 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء افریقہ میں اس ترقی نے نام نہاد علماء اور بعض لیڈروں کو بہت سخت پریشان کیا ہوا ہے۔وہ اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ دنیا خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہورہی ہے بلکہ اُن کو یہ فکر ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے یہ لوگ حقیقی مسلمان بن رہے ہیں۔گزشتہ دنوں وہاں افریقہ میں بڑی کوشش ہوتی رہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے مسلمان بن رہے ہیں۔ہم تو جو اسلام پھیلانا چاہتے ہیں وہ تو سختی اور دہشت گردی کا اسلام ہے۔یہ لوگ تو مسلمان ہو کے فتنہ وفساد سے دور ہو رہے ہیں۔نام نہاد جہاد سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔اور یہی بات ہے جو ان دنیاوی لیڈروں کو بہت زیادہ پچھتی ہے یا علماء کو بھتی ہے۔ہمارے ٹوگو کے مبلغ بیان کرتے ہیں کہ وہاں آیا کو پے (Ayakope) ایک جگہ ہے اُس کے دورے پر گئے تو وہاں کے نو مبائعین نے بتایا کہ یہاں کچھ دن پہلے مسلمانوں کا ایک گروہ آیا تھا اور ہمیں کچھ کھانے پینے کی چیزیں دیں اور کہنے لگے کہ ہم آپ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔تو ہم نے کہا آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں یا لالچ دے رہے ہیں۔ہمیں چیزیں دے کر آپ چاہتے ہیں کہ ہم اسلام قبول کر لیں۔ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے پاس جماعت احمدیہ والے آئے تھے اور انہوں نے ہمیں اسلام کی تبلیغ کی اور ہم نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا ہے اور ہمیں کسی قسم کا لالچ بھی نہیں دیا اور وہ اب ہمیں یہ خوبصورت تعلیم سکھا بھی رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو نمازیں بھی پڑھنا سکھا رہے ہیں، قرآن کریم پڑھنا بھی سکھا رہے ہیں۔اس لئے ہم آپ سے یہ چیزیں نہیں لیں گے۔آپ یہ چیز میں واپس لے جائیں۔آپ جو اسلام پیش کر رہے ہیں ہم اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ہم تو اُس حقیقی اسلام کو قبول کریں گے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور جس کی تبلیغ آج جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔اور اس کے بعد پھر وہ ایمان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھے ہیں۔اب اُن نو مبائعین نے وہاں اپنی ایک مسجد بھی بنالی ہے۔اسی طرح مبلغ نائیجر لکھتے ہیں۔برنی کونی شہر میں ایک چھوٹا سا گاؤں بٹورو (Botoro) ہے، وہاں جب تبلیغ کی گئی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ گاؤں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔فوری طور پر بچوں کے لئے سرنا القرآن کلاسز جاری کر دی گئیں۔امام صاحب کاریفریشر کورس جاری کر دیا گیا اور تربیتی پروگرام بنائے گئے۔جب یہ اطلاع وہاں وہابی مولوی ، امام تک پہنچی تو فوری طور پر وہ مولویوں کا ایک گروپ لے کر اس گاؤں میں پہنچ گیا اور تقریر شروع کر دی کہ یہ کافر ہیں۔آپ جماعت کا انکار کر دیں۔