خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد 12 119 خطبه جمعه فرموده مورخہ 21 فروری 2014ء طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ میرے ماموں بھی تھے۔24 / مارچ 1932ء کو پیدا ہوئے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تمام بیٹوں کی طرح آپ کو بھی بچپن میں وقف کیا ہوا تھا اور اس لحاظ سے آپ کی تربیت اور تعلیم کے مراحل طے کرائے گئے تھے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ اور جامعتہ المبشرین قادیان میں دینی تعلیم حاصل کی۔میٹرک پرائیویٹ پاس کیا۔1958ء میں بی۔اے پاس کیا۔لاہور لاء کالج سے 1962ء میں اس شرط پر ایل ایل بی کیا کہ اس کی پریکٹس نہیں کرنی۔1962ء میں آپ خدمات سلسلہ کے لئے بیرونِ ملک تشریف لے گئے۔1962 ء سے 1969ء تک بطور پرنسپل سیکنڈری سکول سیرالیون میں خدمت کی توفیق پائی۔علمی شخصیت کے مالک تھے۔ہیں سال کی محنت و تحقیق کے بعد قرآن کریم کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر و تفسیر کے بحر بے کراں کا احاطہ کرتے ہوئے قیمتی ارشادات اور اردو، فارسی اور عربی اشعار کا چناؤ اور الہام اکٹھے کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن“ کے نام سے ایک بڑی اچھی اور ضخیم کتاب مرتب کی جو 2004ء میں شائع ہوئی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عربی ،فارسی اور اردوادب پر مشتمل اشعار کی دوسری کتاب بھی ادب اسی کے نام سے شائع کی۔یہ بھی ایک بڑا اچھا شاہکار ہے۔ان کی شادی 1959ء میں مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جو حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ماموں تھے ، اُن کی بیٹی طاہرہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔اور ان کے چار بچے تھے۔ایک عزیزم مرزا سلیمان احمد ، یہ امریکہ میں ہیں۔اور تین بیٹیاں ہیں۔امتہ المومن حنا جو ڈاکٹر خالد تسلیم احمد صاحب ربوہ میں ہیں اُن کی اہلیہ، اور ایک مینا مبارکہ مرزا احسن احمد کی اہلیہ، اور امتہ السمیع فرخ احمد خان کی اہلیہ ہیں۔سیرالیون میں ایک عرصہ رہے ہیں۔آپ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ بو (Bo) شہر میں پہلی مرتبہ جماعت کے کسی سکول میں سائنس بلاک کا قیام عمل میں آیا۔تو آپ کی اہلیہ کہتی ہیں بہت محنت اور توجہ سے سارا سارا دن کھڑے ہو کر اس بلاک کی تعمیر کروایا کرتے تھے۔قمر سلیمان صاحب سیرالیون دورے پر گئے تھے تو کہتے ہیں سیرالیون کے لوگ ابھی تک صاحبزادہ صاحب کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔یتیموں کی پرورش کا بھی خیال کرتے تھے۔خاموشی سے اُن کی مدد کرتے رہتے تھے۔اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔دوستی خوب نبھاتے تھے۔اپنے ایک بہت قریبی اور ہر دلعزیز دوست کی وفات کے بعد جس کی اولاد جو ابھی چھوٹی تھی، اُن کا بڑا خیال رکھا، اُن کی شادیاں کروائیں اور دوستی کے رشتے کو