خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 65
خطبات مسرور جلد 11 65 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائلہ حسن نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کا ملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا۔وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيما ( النساء : 114 )۔یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب 45 میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا۔“ ( براہین احمدیہ۔ہر چہار حص۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 605 - 606 بقیہ حاشیه در حاشیہ نمبر 3) یہ بھی براہینِ احمدیہ کا حوالہ ہے۔پھر جو اعلیٰ درجہ کا نور آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا ، اُس کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا۔یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نوراس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سیّد ، ہمارے مولی ، ہمارے ہادی، نبی اُمّی صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔جیسا کہ خود خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔قُلْ اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ - لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 164-163) وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبيلِهِ ذَالِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (الانعام: 154) قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (ال عمران : 32) فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ ( ال عمران: 21) وَأُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (المومن : 67 )