خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 709
خطبات مسرور جلد 11 709 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء ڈالتا ہے۔اور اس کا اظہار شامل ہونے والے کرتے رہتے ہیں لیکن قادیان کے جلسے کے ماحول میں روحانیت کا ایک اور رنگ محسوس ہوتا ہے۔جنہوں نے وہاں جلسوں میں شمولیت اختیار کی ہے اُن کو اس بات کا علم ہے اور ہر مخلص کو یہ رنگ محسوس ہونا چاہئے۔کیونکہ اس بستی کی فضاؤں میں اور گلی کوچوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور مسیح موعود اور مہدی معہود کی یادوں کی خوشبو روحانیت کے ایک اور ہی ماحول میں لے جاتی ہے۔پس اس ماحول میں ملی ہوئی نصیحت بھی ایک خاص رنگ رکھتی ہے، ایک خاص اثر رکھتی ہے اور ہر مخلص کے دل پر ایک خاص اثر کرنے والی ہونی چاہئے۔اس لئے میں اس جلسے میں شامل ہونے والے تمام شاملین کو آج اس طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ جہاں جلسہ میں شامل ہو کر علمی اور تربیتی تقریروں سے فیضیاب ہوں، وہاں اُن مقاصد کو بھی اپنے سامنے رکھیں اور ہر وقت اس کی جگالی کرتے رہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کے انعقاد کے بیان فرمائے ہیں جو میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی جلسہ کے افتتاح کرنے والے میرے نمائندے نے وہاں جلسہ کے افتتاح کے وقت پیش کئے ہوں گے۔میرے خیال میں، میں نے اس لئے کہا ہے کہ مجھے اس افتتاحی تقریب کا علم نہیں ہے کہ کیا تقریر ہوئی ہے؟ لیکن عموماً جلسے کے مقاصد کو سامنے رکھ کر ہی افتتاحی تقریر کا مضمون بیان ہوتا ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جلسے میں شامل ہونے والے ہر شخص کو یہ دن گزارنے چاہئیں۔اس جلسہ میں جیسا کہ میں نے کہا کئی ممالک کی نمائندگی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مقصد یہ بھی بتایا تھا کہ افرادِ جماعت کا ایک دوسرے سے جلسہ کے دنوں میں تعارف بڑھے اور اخوت اور پیار اور محبت کے تعلقات قائم ہوں۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 281 اشتہار نمبر 91 مطبوعہ ربوہ) پس آج تعارف اور اخوت کے معیاروں میں ایسی وسعت پیدا ہو گئی ہے جو بے مثال ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان کا رہنے والا ایک عام کارکن امریکہ کے رہنے والوں اور روس کے رہنے والوں سے ملتا ہے۔یا عرب کا رہنے والا یورپ کے رہنے والوں سے ملتا ہے یا سب جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ روح نظر آتی ہے جو مومنین کے اخوت کے وصف کو نمایاں کرتی ہے اور یہ روح اس وصف کو نمایاں کرنے والی ہونی چاہئے۔اگر کسی کے دل میں نخوت ہے تو وہ اپنے بھائیوں سے اس اخوت کے جذبے کے تحت نہیں ملتا۔یا ایک شہر کا رہنے والا امیر اپنے غریب بھائی کو چاہے وہ اُسے جانتا ہے یا نہیں یا