خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 687
خطبات مسرور جلد 11 687 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء عملی حصہ کمزور رہے گا۔عملی حصے کی مضبوطی اُس وقت آئے گی جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات کو سامنے رکھیں گے کہ قرآن کریم کے سات سو حکموں پر عمل نہ کرنے والا نجات کا دروازہ اپنے او پر بند کرتا ہے۔پس ہمیں غیروں کی طرح یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بعض نیکیاں بڑی ہیں اور بعض نیکیاں چھوٹی ہیں۔اور اس معاملے میں اُن لوگوں کی جو دوسرے مسلمان ہیں، غلو کی یہ حالت ہے کہ مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ روزہ سب سے بڑی نیکی ہے، لیکن نماز با جماعت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،لیکن روزہ بہت ضروری ہے، اس پر بڑی پابندی ہوتی ہے۔جس پر زکوۃ فرض ہے ، وہ زکوۃ بچانے کی کوشش تو کرے گا لیکن روزہ ضرور رکھے گا۔کیونکہ اگر روزہ نہ رکھے تو اُس کے نزدیک یہ بہت بڑا جرم ہے۔زکوۃ بچانے کا ایک وقت میں تو یہ حال تھا لیکن اب پتہ نہیں پاکستان میں کیا حال ہے۔1974ء کے بعد جب احمدیوں کو آئین اور قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا تو بعض غیر از جماعت جن کے بنکوں میں اکاؤنٹ تھے، تو ان اکاؤنٹس سے کیونکہ حکومت سال کے آخر پر زبردستی زکوۃ لیتی ہے لیکن حکومت کے مطابق احمدیوں پر یہ واجب نہیں ہے کیونکہ غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا۔سوز کو ۃ سے بچنے کے لئے بعض غیر از جماعت بھی بنک فارموں پر قادیانی یا احمدی لکھ دیا کرتے تھے۔تو ان کی ایمان کی تو یہ حالت ہے کہ ویسے احمدی کا فر ہیں لیکن اپنے پیسے بچانے کے لئے وقت آیا تو خود بھی اُن کا فروں میں شامل ہو گئے۔آجکل پتہ نہیں کیا صورتحال ہے۔بہر حال ایک وقت میں ایسی صورتحال تھی۔یہ صورتِ حال اس لئے ہے کہ نیکی اور بدی کے معیاروں کو مقرر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف نہیں دیکھتے ، اُس کے رسول کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ نام نہاد فقیہوں اور مفتیوں اور علماء کے پیچھے چل پڑے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ رمضان کے مہینے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام امرتسر کے ایک سفر پر تھے اور اس حالت میں ایک موقع پیدا ہوا کہ آپ ایک جگہ تقریر فرمارہے تھے۔تقریر کے دوران آپ کے گلے میں خشکی محسوس ہوئی تو ایک دوست نے یہ دیکھ کر چائے کی پیالی آپ کو پیش کی۔آپ نے اُسے ہٹا دیا۔تھوڑی دیر بعد پھر تکلیف محسوس ہوئی، اُس نے فکرمند ہو کے پھر چائے کی پیالی پیش کی۔آپ نے ہٹا دیا اور ہاتھ سے اشارہ بھی کیا کہ رہنے دو۔لیکن کیونکہ تکلیف پھر ہوئی اور گلے میں خشکی کا احساس ہوا تو پھر اُس نے تیسری دفعہ چائے کی پیالی پیش کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غالباً یہ سمجھ کر کہ اگر میں نے نہ لی تو یہ سمجھا جائے گا کہ میں ریاء کر رہا ہوں اور سفر میں جو روزہ نہ رکھنے کا حکم اور سہولت ہے ، اُس سے لوگوں کو دکھانے کے لئے فائدہ نہیں اُٹھا