خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 686
خطبات مسرور جلد 11 686 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء رسیا ہیں۔جوئے کی مشینوں پر جاتے ہیں اور ویسے بھی جوا کھیلتے ہیں۔لیکن عام زندگی میں جھوٹ نہیں بولتے۔عام آدمی کے ساتھ ظلم نہیں کرتے قتل نہیں کرتے۔اس لئے کہ یہ لوگ ان برائیوں کو بڑا گناہ سمجھتے ہیں لیکن جوئے اور غلط کاموں میں پیسے لٹانے اور ضائع کرنے کو یہ برانہیں سمجھتے۔تو ایسے شخص کے لئے غلط رنگ میں رقم لٹانا بڑا گناہ ہے۔کیونکہ باقی گناہ تو وہ پہلے ہی گناہ سمجھتا ہے۔۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عورت اپنے لباس کو حیادار نہیں رکھتی۔باہر نکلتے ہوئے پردے کا خیال نہیں رکھتی۔باوجود احمدی مسلمان ہونے کے اور کہلانے کے ننگے سر، بغیر حجاب کے، بغیر سکارف کے یا چادر کے پھرتی ہے۔لباس چست اور جسم کی نمائش کرنے والا ہے۔لیکن مالی قربانی کے لئے کہو، کسی چیریٹی میں چندے کے لئے کہو تو کھلا دل ہے، یا جھوٹ سے اُسے نفرت ہے اور برداشت نہیں کرتی کہ اُس کے سامنے کوئی جھوٹ بولے تو اس کے لئے بڑی نیکی چندوں میں بڑھنا یا بڑی نیکی جھوٹ سے نفرت نہیں بلکہ بڑی نیکی قرآن کریم کے اس حکم پر عمل کرنا ہے کہ اپنے لباس کو حیادار بناؤ اور پردے کا خیال رکھو۔جس کو وہ چھوٹی نیکی سمجھ کر توجہ نہیں کر رہی یہی ایک وقت میں پھر اُس کو بڑی برائی کی طرف بھی دھکیل دے گی۔غرض کہ ہر نیکی اور گناہ کا معیار ہر شخص کی حالت کے مطابق ہے اور مختلف حالتوں میں مختلف لوگوں کے عمل نیکی اور بدی کی تعریف اُس کے لئے بتلا دیتے ہیں۔پس جب تک یہ خیال رہے کہ فلاں بدی بڑی ہے اور فلاں چھوٹی ہے اور فلاں نیکی بڑی ہے اور فلاں نیکی چھوٹی ہے، اُس وقت تک انسان نہ بدیوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیوں کی تو فیق پاسکتا ہے۔ہمیشہ ہمارے سامنے یہ بات رہنی چاہئے کہ بڑی بدیاں وہی ہیں جن کے چھوڑنے پر انسان قادر نہ ہو۔بہت مشکل پیش آتی ہے اور وہ انسان کی عادت میں داخل ہو گئی ہوں اور بڑی نیکیاں وہی ہیں جن کو کرنا انسان کو مشکل لگتا ہو۔یعنی بہت سی بدیاں ایک کے لئے بڑی ہیں اور دوسرے کے لئے چھوٹی اور بہت سی نیکیاں ایک کے لئے بڑی نیکی ہیں اور دوسرے کے لئے چھوٹی۔پس اگر ہم نے اپنی عملی اصلاح کرنی ہے تو سب سے پہلے اس خیال کو دل سے نکالنا ہو گا کہ مثلاً زنا ایک بڑا گناہ ہے قبل ایک بڑا گناہ ہے، چوری ایک بڑا گناہ ہے، غیبت ایک بڑا گناہ ہے اور ان کے علاوہ جتنے گناہ ہیں وہ چھوٹے گناہ ہیں۔پس اس خیال کو دل سے نکالنا ضروری ہے اور اس خیال کو بھی دل سے نکالنا ہو گا کہ روزہ بڑی نیکی ہے، زکوۃ بڑی نیکی ہے، حج بڑی نیکی ہے اور اس کے علاوہ جتنی نیکیاں ہیں، چھوٹی نیکیاں ہیں جس طرح عام مسلمانوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے۔اگر یہ خیال دل سے نہیں نکالتے تو ہمارا