خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 669 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 669

خطبات مسرور جلد 11 669 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء لیکھرام کو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُس نے زبان درازی کی تھی۔لیکن دوسری طرف یہ بھی رحم ہے کہ اپنے متعلق جو بات ہورہی ہے اُس میں فرمایا کہ نہیں۔ایسا کام نہیں کرنا جس سے مولوی محمد حسین صاحب کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے۔آپ فرماتے ہیں کہ یادرکھو کہ جو شخص اپنی اولا دکونیک اخلاق نہیں سکھا تاوہ نہ صرف یہ کہ اپنی اولاد سے دشمنی کرتا ہے بلکہ سلسلہ سے بھی دشمنی کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرتا ہے اور خدا سے دشمنی کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں بہت ساری نصیحتیں کرتارہتا ہوں،خطبات دیتار ہتا ہوں ،اور یہ سلسلہ تو ہر دور میں چلتا ہے، تمام خلفاء نے دیئے، دیتے رہے ہیں، میں بھی دیتا ہوں۔آپ مثال اس کی دیتے ہیں کہ جب تک خطبات چلتے رہتے ہیں، کچھ نہ کچھ اثر رہتا ہے اور جب خطبات کا سلسلہ بند ہوتا ہے یا پھر کچھ عرصے بعد وہ اثر ختم ہو جاتا ہے۔آپ نے اس کی مثال دی کہ ایک کھلونا ہوتا ہے جس کا نام ہے jack in the box۔وہ باکس کے اندر ایک لچکدار گڑا ہوتا ہے۔جب ڈھکنا بند کر دیں تو وہ اندر بند ہو جاتا ہے۔ڈھکنا کھولو تو پھر اچھل کے باہر آ جاتا ہے۔تو یہی حال ان لوگوں کا ہے جن کو نصیحت کرتے رہو، کرتے رہو، کچھ عرصہ اثر رہتا ہے اور جب نصیحت بند ہوتی ہے تو پھر وہ اُسی طرح اچھل کے باہر آ جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا نے کسی کو اتنا وقت نہیں دیا کہ ایسے وعظ کر سکے کہ مستقل چلتے چلے جائیں۔اصل چیز یہی ہے کہ انسان مومن بہنے ، پھر یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ کشمکش اُسی وقت تک کے لئے ہے جب تک ایمان نہ ہو۔پس جب توجہ دلائی جائے تو اُس کو غور سے سننے کے بعد پھر اُس کو عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے اور یہی جماعت کی ترقی کا راز ہے اور یہی چیز جو ہے انسان کو صحیح عبد بناتی ہے۔آپ فرماتے ہیں پس ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے اُن پر بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔انسان کے اندر کمزوریاں خواہ پہاڑ کے برابر ہوں، اگر وہ چھوڑنے کا ارادہ کر لے تو کچھ مشکل نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کا مشہور مقولہ ہے کہ اگر تمہارے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو تو تم پہاڑ کو ان کی جگہوں سے ہٹا سکتے ہو۔اس کا مطلب یہی ہے کہ گناہ خواہ پہاڑ کے برابر ہوں، انسان کے اندر ایمان اگر رتی برابر بھی ہے تو وہ ان پہاڑوں کو اڑا سکتا ہے۔جس دن مومن ارادہ کر لے تو اس کے راستہ میں کوئی روک نہیں رہتی۔وہ سب روکیں دور ہو جاتی ہیں۔فرمایا کہ اس وقت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست اپنی اپنی اولادوں کی اور جماعت کے دوسرے نوجوانوں کی اصلاح کریں۔اپنی اصلاح کریں۔جھوٹ ، چوری، دغا،فریب ، دھوکہ، بد معاملگی ،