خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 668
خطبات مسرور جلد 11 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء علیہ السلام کی ذات پر کوئی حملہ کیا جاتا تو وہ پر زور تردید کرتے اور کہتے کہ عقائد کا معاملہ الگ ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے اخلاق ایسے ہیں کہ ہمارے علماء میں سے کوئی بھی اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور اخلاق کے لحاظ سے میں نے ایسے ایسے مواقع پر اُن کی آزمائش کی ہے کہ کوئی مولوی وہاں نہیں کھڑا ہو سکتا تھا جس مقام پر آپ کھڑے تھے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ جس خدا نے قبل از وقت مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت کی خبر آپ کو دی تھی، اُس نے ایک طرف تو آپ کے اخلاق دکھا کر آپ کی عزت قائم کی اور دوسری طرف غیر معمولی سامان پیدا کر کے مولوی صاحب کو بھی ذلیل کر دیا۔اور یہ اس طرح ہوا کہ وہی ڈپٹی کمشنر جو پہلے سخت مخالف تھا اُس نے جو نہی آپ کی شکل دیکھی، اُس کے دل کی کیفیت بدل گئی اور باوجود اس کے کہ آپ ملزم کی حیثیت سے اُس کے سامنے پیش ہوئے تھے اُس نے کرسی منگوا کر اپنے سامنے بچھوائی اور اس پر آپ کو بھوایا۔جب مولوی محمد حسین صاحب گواہی دینے کے لئے آئے ، چونکہ وہ اس امید پر آئے تھے کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی یا کم سے کم آپ کو ذلت سے کھڑا کیا گیا ہو گا۔جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ کرسی پر بٹھایا ہوا ہے تو وہ غصہ سے مغلوب ہو گئے اور جھٹ مطالبہ کیا کہ مجھے بھی کرسی دی جائے۔اس پر عدالت نے کہا کہ نہیں۔آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔جب انہوں نے اصرار کیا تو جج نے اُن کو بڑا سخت ڈانٹا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے آپ کی عزت قائم ہوئی۔اس کے بالمقابل ہماری جماعت کے کتنے دوست ہیں جو غصے کے موقع پر اپنے نفس پر قابور کھتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھو کہ ایسے شدید دشمن کے صحیح واقعات سے بھی اُس کی تذلیل گوارا نہیں کرتے مگر ہمارے دوست جوش میں آ کر گالیاں دینے بلکہ مارنے پیٹنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ: ے رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹا یا ہم نے پس ہماری جماعت کو ایک طرف تو یہ اعلیٰ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں اور دوسری طرف بدی سے پوری پوری نفرت کرنی چاہئے۔ایسی ہی نفرت جیسی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دکھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں بھی یہ دونوں نظارے پائے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن ایک سمویا ہوا انسان ہے۔اور پھر واقعہ بیان کیا کہ پنڈت