خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 662
خطبات مسرور جلد 11 662 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء (آل عمران : 145 ) یعنی کیا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جا ئیں یا قتل ہو جا ئیں تو کیا اے مسلمانو! تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں نہیں تھے ، باہر گئے ہوئے تھے۔آپ کو جب یہ خبر ملی تو آپ جلدی واپس مدینہ تشریف لائے اور سید ھے اُس حجرہ میں چلے گئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر رکھا ہوا تھا۔اور آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے چادر اُٹھائی اور دیکھا کہ واقعہ میں آپ کی وفات ہو چکی ہے۔پھر جھکے اور پیشانی پر بوسہ دیا۔آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور جسم اطہر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں نہیں لائے گا۔یعنی ایک تو ظاہری موت اور دوسرے یہ کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم مٹ جائے۔پھر آپ باہر تشریف لائے جہاں صحابہ جمع تھے اور جہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار ہاتھ میں لے کر بڑے جوش میں یہ اعلان کر رہے تھے کہ جو کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں وہ منافق ہے اور میں اُس کی گردن اڑا دوں گا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں تشریف لائے اور لوگوں کو خاموش ہونے کو کہا۔اور بڑے زور سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی فرمایا کہ چپ رہو اور مجھے بات کرنے دو۔اور پھر یہ آیت پڑھی۔مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَا ئِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أعْقَابِكُم ( آل عمران 145 ) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف خدا کے رسول ہیں ، آپ سے قبل جتنے رسول آئے وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔اگر آپ فوت ہو جا ئیں یا قتل ہو جا ئیں تو کیا تم اپنے دین کو چھوڑ دو گے؟ اور سمجھو گے کہ تمہارا دین ناقص ہے؟ پھر نہایت جوش سے فرمایا کہ اے لوگو! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَى لَا يَمُوتُ جو تم میں سے اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش ہو جائے کہ ہمارا خدا زندہ ہے اور کبھی نہیں مرسکتا۔وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ۔لیکن جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا ، وہ سن لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ بالا آیت پڑھی ، مجھے ایسا معلوم ہوا گویا آسمان پھٹ گیا ہے اور میری ٹانگیں لڑکھڑا گئیں اور پاؤں کی طاقت سلب ہوگئی اور میں بے اختیار ہوکر زمین پر گر پڑا۔اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔دیکھو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت تھی کہ جب انہیں معلوم ہو گیا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں تو بے اختیار ہو کر آپ کے جسم مبارک کو بوسہ دیا ، آنکھوں سے آنسو