خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 656
خطبات مسرور جلد 11 656 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ اُسے رئیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے ، اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے بھی روز روز نہیں آتے۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1936 صفحہ 16-17) پس آپ کا وجود اپنی ذات میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی ایک دلیل بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم و عرفان عطا فرمایا تھا، اُس کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلے خبر دی تھی۔اس لحاظ سے افراد جماعت کو آپ کے اُس علم وعرفان سے ذاتی مطالعہ کر کے بھی فائدہ اُٹھانا چاہئے اور کیونکہ لٹریچر ہر زبان میں میسر نہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مختلف وقتوں میں بیان بھی ہوتا رہنا چاہئے۔اس لئے میں مختلف حوالوں سے بعض دفعہ حضرت مصلح موعود کا بیان کرتارہتا ہوں اور چند مہینے پہلے میں نے تقریباً ایک مکمل خطبہ بھی اس پر دیا تھا یا کچھ تھوڑا سا خلاصہ بیان کر کے دیا تھا۔آج پھر اُسی طرز پر میں خلاصہ یا بعض باتیں اُسی طرح بیان کروں گا۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے یا اپنا عبد بنانے کے لئے پیدا کیا ہے، کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کے لئے انسان کی پیدائش ہوئی ،لیکن بڑے بڑے فلاسفر اور تعلیم یافتہ طبقہ یہ سوال کرتا ہے کہ کیا انسان کی پیدائش کے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے اور کیا خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے وہ کام لے لیا ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے اُس نے انسان کو پیدا کیا تھا؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعہ میں انسان اس مقصد کو پورا کر رہا ہے؟ اور کیا واقعہ میں اس نے اس قسم کی ترقی کی ہے کہ خدا تعالیٰ کا عبد کہلانے کا مستحق ہو۔تو فرمایا کہ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔اس لئے وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر انسان کو کوئی پیدا کرنے والا ہے تو کیوں اُسے اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء اس سوال کا جواب دینے کے لئے آتے ہیں۔اور نیکی کی ایسی رو چلاتے ہیں جسے دیکھ کر دشمن کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ مقصد پورا ہو گیا ہے۔اس دن کی آمد کے لئے اگر ہزار دن