خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 649
خطبات مسرور جلد 11 649 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔چرچوں میں جانے والے کوئی نہیں۔عیسائیت کہتی تو ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں لیکن چرچ فروخت ہورہے ہیں۔پس یہ دنیا اس وقت بے حال ہے۔جیسا کہ میں نے کہا دنیاوی لحاظ سے ہمارے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ان دنیا داروں کے سامنے ہمارے وسائل جو ہیں ایک ذرہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔پس یہ جوسب باتیں ہیں یہ فکر پیدا کرتی ہیں اور فکر پیدا کرنے والی ہونی چاہئیں کہ ایسے حالات میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو کیسے آگے بڑھا ئیں گے؟ لیکن خدا تعالیٰ جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کے لئے بھیجا ہے، خدا تعالیٰ جس نے زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیجا، اُس نے ہمیں فرمایا کہ مجھ میں ہو کر میرے راستوں کو تلاش کرو۔اور خدا تعالیٰ میں ہو کر اُس کے راستے کی تلاش کس طرح کرنی ہے؟ فرمایايَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (البقرة : 154) کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، صبر اور دعا کے ساتھ اللہ کی مد مانگو، اللہ یقیناً صابروں کے ساتھ ہو گا۔پس یہ اللہ ہے جس سے مدد مانگی جائے تو بڑی سے بڑی روک بھی ہوا میں اُڑ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ جو تمام قدرتوں والا ہے، اللہ تعالیٰ جو اپنے جلال کے ساتھ سب طاقتوں کا مالک ہے، وہ ہر انہونی چیز کو ہونی کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم اور ہر انسان کے لئے نجات دہندہ کے طور پر بنا کر بھیجا ہے جس نے قرآنِ کریم آپ پر نازل فرما کر تمام انسانوں کے لئے شریعت کو کامل کر دیا جس میں ہر زمانے کے دینی اور دنیاوی مسائل کا حل بھی ہے، جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانے میں اسلام کے احیائے ٹو کے لئے بھیجا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔جب ایسے حالات آئیں کہ روکیں سامنے نظر آئیں، جب ایسے حالات آئیں کہ تمہاری عقلیں فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں اُس وقت تم صبر اور صلوۃ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگو۔پس اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی مدد مانگو گے تو بظاہر مشکل کام بھی آسان ہوتے چلے جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اُس کے دین نے غالب آنا ہے لیکن تمہیں اس غلبہ کا حصہ بننے کے لئے صبر اور صلوٰۃ کی ضرورت ہے۔لیکن کیسے صبر اور کیسی صلوۃ کی ضرورت ہے؟ اُس کے لئے پہلے اصول بیان ہو چکا ہے کہ اللہ میں ہوکر مجاہدہ کرو۔صبر کے مختلف معنی لغات میں درج ہیں۔مثلاً صبر یہ ہے کہ مستقل مزاجی اور کوشش سے برائیوں