خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 648
خطبات مسرور جلد 11 648 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء پس ہم دنیا وی نظر سے دیکھیں اور وسائل پر بھروسہ کریں تو ہماری جو کامیابی ہے ایک دیوانے کی بر نظر آتی ہے۔اگر ہم دنیاوی طاقت اور وسائل کے لحاظ سے دیکھیں تو ایک ملک کو ہی دیکھ کر ہم پر یشان ہو جائیں۔مثلاً روس کو لے لیں ، چین کو لے لیں، یورپ کے کسی ملک کو لے لیں، امریکہ کے کسی ملک کو لے لیں، جزائر کو لے لیں، افریقہ کے کسی ملک کو لے لیں، ہر جگہ بہت سی ایسی رو کیں نظر آئیں گی جو ہمیں آگے بڑھنے سے ڈرائیں گی۔ملکوں کے حالات اور دنیاوی جاہ و حشمت نہ آج سے چند دہائیاں پہلے ہمارے حق میں تھے، نہ آج ہمارے حق میں ہیں۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہونے ہیں اور ہورہے ہیں۔مثلاً ایک وقت میں روس اور اُس کے ساتھ جو تمام states تھیں، کمیونسٹ حکومت کی وجہ سے وہاں تبلیغ نہیں ہو سکتی تھی۔اب ایک حصہ آزاد ہو کر مذہب سے دور چلا گیا اور دنیاوی چکا چوند نے اُسے اندھا کر دیا۔اور دوسری طرف جو مسلمان ریاستیں رشیا میں شامل تھیں وہاں مفتیوں اور مفاد پرست مذہبی لیڈروں نے حکومت کو اس طرح ڈرا دیا ہے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے راستے میں قدم قدم پر روکیں کھڑی کی جارہی ہیں۔جماعت پر پابندیاں ہیں اور وہاں کے احمدیوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے۔مغربی ممالک کو دیکھیں تو دنیا داری نے یہاں بھی انتہا کر دی ہے۔غلاظتوں اور بے حیائیوں کو قانون تحفظ دے دیتا ہے۔جس بے حیائی پر اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو تباہ کیا تھا، اُس بے حیائی کو ہمدردی کے نام پر تحفظ دیا جا رہا ہے۔چین میں مذہب سے دلچسپی کوئی نہیں ، ماڑی دوڑ میں آگے بڑھنے کی دوڑ وہاں لگی ہوئی ہے اور معاشی لحاظ سے وہ دنیا کی بہت بڑی طاقت بن رہا ہے۔جاپان ہے تو بہت ترقی یافتہ ملک ہے، وہاں بھی ٹیکنالوجی میں ترقی ہے اور حیرت انگیز ترقی نظر آتی ہے۔اکثریت دنیا کی رسوم کے پیچھے لگی ہوئی ہے لیکن مذہب سے دُوری ہے اور وہ یہ کہنے والے ہیں جو میں نے مثال دی کہ خدا کے لئے نعوذ باللہ میرے پاس وقت نہیں ہے۔اکثریت کا یہی نظریہ ہے۔کیسا خدا، کونسا خدا؟ بیشک اخلاقی لحاظ سے یہ لوگ بڑے آگے ہیں لیکن دنیا داری نے مذہب سے دور کر دیا ہے۔بظاہر کہنے کو اگر جاپانیوں سے پوچھو تو روایتی مذہب ان کا شنٹو ازم ہے لیکن حقیقت میں یہ لوگ شنٹو ازم، عیسائیت اور بدھ ازم کا ایک عجیب ملغوبہ یا عجیب مجموعہ بن چکے ہیں۔عملاً صرف رسومات کی حد تک برا ہونے ، زندگی گزارنے اور مرنے کے بعد کے جو مراحل ہیں وہ مختلف stages میں مختلف مذاہب ادا کر رہے ہیں لیکن بہر حال دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔مغرب کی اکثریت جیسا کہ میں نے کہا، خدا تعالیٰ کو بھلا بیٹھی ہے اور نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کو بھلا بیٹھی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔مذہب پیدا