خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 630
خطبات مسرور جلد 11 630 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین ہزار افراد نماز پڑھ سکتے ہیں اور اتفاق سے یہ تقریباً قبلہ رُخ بھی ہے اور اس بلڈنگ میں دوسرے ہال کو شامل کر کے مجموعی طور پر چار ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔مشن ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، دور ہائشی یونٹ، لائبریری، ریڈنگ روم، کچن، سٹور اور اس کے علاوہ ایک اور چھوٹا ہال یہ سب اس میں موجود ہیں۔اس کی تین پارکنگ ہیں جن میں دوسو سے زائد گاڑیاں کھڑی کی جاسکتی ہیں۔اگست 2007ء میں یہ درخواست یہاں جمع کروائی گئی تھی کہ ہم لینا چاہتے ہیں تو ہمسایوں نے کئی اعتراضات کئے کہ یہاں مسلمانوں کی عبادتگاہ بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ آخر ڈیڑھ سال کے انتظار کے بعد 2009ء میں سٹی کونسل نے اس سینٹر کو جماعت احمدیہ کو دینے کا فیصلہ کیا اور ایسا فیصلہ ہے کہ تمام کو نسلرز نے بلا استثناء اس کے حق میں فیصلہ دیا۔پہلے یہ ایک کلب تھا، پارک تھا، پھر اس کا status change کر کے اس کو کمیونٹی سینٹر اور مشن ہاؤس کے طور پر رجسٹر کر لیا۔اور اس کے بعد جیسا کہ میں نے کہا، لوگوں کی رائے بھی آپ نے سنی۔اکثر لوگوں کی جماعت احمدیہ کے بارے میں رائے بالکل تبدیل ہو گئی ہے۔اس سینٹر کی خرید پر آٹھ لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔پھر اس کو ٹھیک کیا گیا، مرمت کیا گیا، تقریباً ایک اعشاریہ تین ملین ڈالر خرچ ہوا۔یعنی تیرہ لاکھ ڈالر۔اس کے علاوہ و قارئ عمل جس طرح ہماری روایت ہے، اس کو کر کے پانچ لاکھ ڈالر کی بچت ویسے بھی کی گئی ہے۔بہر حال اگر ویسے اس کی value دیکھیں تو یہ اس وقت مارکیٹ میں کم از کم پانچ ملین ڈالر کی ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ بڑی سستی چیزیں اللہ تعالیٰ جماعت کو مہیا فرما دیتا ہے۔پھر سڈنی میں واپس آئے۔یہاں خلافت جو بلی ہال جو تعمیر ہوا ہے۔اس کا افتتاح کیا۔اس میں چودہ سو افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔دومنزلہ دفاتر بنائے گئے ہیں۔میٹنگ روم ہے، لجنہ کے اور دوسری تنظیموں کے دفاتر ہیں۔بڑا مین (main) کچن ہے جس میں لنگر خانہ چلتا رہا۔ان ڈور گیمز بھی ہال میں کھیلی جاسکتی ہیں۔افتتاح کے موقع پر یہاں وزیر اعظم آسٹریلیا کی نمائندگی میں وہاں کی ایک ممبر آف پارلیمنٹ Concetta Fierravanti Wells آئی ہوئی تھیں۔پھر فیڈرل ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔Minister for Citizenship تھے۔اپوزیشن کے لیڈر تھے۔اسی طرح بہت سارے ممبر آف پارلیمنٹ، پارلیمانی سیکرٹری فار لاء اینڈ جسٹس، پولیس کے افسران، ایر یا کما نڈر آف پولیس اور کونسلر اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے کافی لوگ یہاں شامل ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں خلافت جوبلی کے ہال کا افتتاح تھا اس لئے اسلام کی تعلیم ، جماعت احمد یہ کیا ہے؟ اور اب جماعت احمدیہ میں خلافت