خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد 11 55 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء تشریف لائے۔ہم کھڑے ہو گئے۔مصافحہ کیا۔پھر حضور بیٹھ گئے۔منشی احمد دین صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ وہ لڑکا ہے جس کو خواب آئی تھی۔حضور نے مجھے اپنی گود میں بٹھالیا اور فرمایا کہ وہ خواب سناؤ۔چنانچہ میں نے وہ خواب سنائی۔پھر اندر سے کھانا آیا۔حضور نے کھایا اور دوستوں نے بھی کھایا۔جب حضرت اقدس کھانا کھا چکے تو تبرک ہمارے درمیان تقسیم فرما دیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحه 111 تا 113 از روایات حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب) حضرت سید سیف اللہ شاہ صاحب بیان کرتے ہیں۔انہوں نے 1906ء میں بیعت اور 1908ء میں زیارت کی تھی۔کہتے ہیں غالباً بارہ تیرہ سال کی عمر تھی کہ خواب میں اپنے آپ کو موضع یاری پورہ میں پایا۔اُس وقت تک میں یاڑی پورہ سے نا آشنا تھا۔( پتہ نہیں تھا کہ یاڑی پورہ کیا جگہ ہے )۔کہتے ہیں دیکھا کہ ہزاروں لوگ جمع ہو گئے ہیں اور اس جگہ احمدیوں کی مسجد ہے۔اُس جگہ ایک ٹیلہ جو قریباً چھ سات گز اونچا تھا نظر آیا۔اور اُس پر ایک صاحب بیٹھے ہیں اور لوگ اُس ٹیلے کے نیچے سے اُن کی زیارت اور آداب کر کے گزرتے ہیں۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ تو مجھے کہا گیا کہ یہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو میں نے کمال مسرت سے بے تحاشا ٹیلے پر چڑھ کر اور اُن کے سامنے کھڑا ہو کر السلام علیکم عرض کیا اور حضور نے وعلیکم السلام فرمایا اور میں نزدیک ہوکر اُن کے سامنے بیٹھ گیا تو یک لخت میرے دل میں وہی ہمیشہ کی آرزو یاد آ گئی تو میں نے دل میں کہا کہ اب ان سے بڑھ کر مجھے اور کس پیر یار ہبر کی ضرورت ہے۔میں انہی سے بیعت کروں گا۔میں نے عرض کی کہ یا حضرت میں بیعت کرنا چاہتا ہوں تو حضور نے فرمایا اچھا ہاتھ نکالو۔تو میں نے ہاتھ نکالا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے داہنے ہاتھ کو اپنے داہنے دستِ مبارک میں پکڑا اور فرمایا کہ کہو، الله ربّی۔تو میں نے الله ربع کہا۔اتنے میں میں بیدار ہو گیا۔بیدار ہونے پر مجھے نہایت افسوس ہوا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر رہا تھا مگر افسوس کہ جلدی بیدار ہو گیا۔وہ مقدس صورت ہمیشہ میرے سامنے آ جاتی تھی اور رخ منور کا عکس میرے لوحِ دل سے کبھی محو نہ ہوتا تھا۔گویا میرے دل پر وہ نقشہ جم گیا تھا۔آگے لکھتے ہیں کہ اس رویا کی تعبیر آگے کھل جائے گی۔پھر بڑا لمبا عرصہ گزر گیا۔( اس عرصے کے مختلف حالات انہوں نے بیان کئے ہیں ) کہتے ہیں آخر ان کو قادیان جانے کا موقع ملا۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیدار ہوا تو کہتے ہیں کہ جب میری نظر چہرہ مبارک پر پڑی تو مجھے وہی خواب والا نقشہ یاد آیا۔یعنی ہو بہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہی صورت دیکھی جو میں نے خواب مذکور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم