خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 599 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 599

خطبات مسرور جلد 11 599 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء کے لئے ہو جائے۔یعنی کوئی عمل صرف دنیاوی خواہشات پوری کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ ہر کوشش اور ہر نیکی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔ہماری عبادتیں صرف اُس وقت نہ ہوں جب ہمیں خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے، جب ہم کسی مشکل میں گرفتار ہیں ، جب ہماری دنیاوی ضرورتیں پوری نہیں ہور ہیں، بلکہ ہماری عبادتیں آسائش اور کشائش میں بھی ہوں۔یہ نہ ہو کہ دنیاوی معاملات اور دنیاوی بکھیڑے اور دنیاوی کاروبار ہمیں خدا تعالیٰ کی عبادت سے دُور کر دیں۔یہ مسجد صرف ایک عمارت نہ رہے اس مسجد کی وسعت اور خوبصورتی صرف یہی نہ یاد دلائے کہ ہم نے اتنا وقت مسجد کی تعمیر کے لئے صرف کر دیا۔اتنے وقار عمل ہم نے کئے ، اتنے پیسے ہم نے بچائے۔ہم نے اتنے گھنٹے وقار عمل کیا۔ہم نے اتنا چندہ اس کی تعمیر کے لئے دیا، بلکہ یہ عمارت یہ یاد کروانے والی ہو کہ اس دنیا میں مسجد کی تعمیر کرنا اگلی زندگی میں خدا تعالیٰ کے اُس انعام کا وارث بنائے گا جس میں خدا تعالیٰ جنت میں گھر بنا کر دے گا۔اور یہ گھر بھی اُس وقت بنے گا جب اس گھر کی تعمیر کے بعد اس کا حق ادا ہو رہا ہوگا۔اور مسجد کا حق ادا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کرنے سے جس کا ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر فرمایا ہے جن کی میں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَابیع کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی مومن وہ ہیں جن کو اُن کی تجارتیں اور خرید و فروخت غافل نہیں کرتیں۔کس چیز سے غافل نہیں کرتیں؟ فرمایا : عن ذكر الله اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نمازوں کے قائم کرنے سے اور زکوۃ ادا کرنے سے۔پس ہم احمدیوں نے وہ حقیقی مومن بننا ہے جو ان خصوصیات کے حامل ہوں۔یہاں نماز سینڑ تو پہلے بھی تھا لیکن سینٹر اور باقاعدہ مسجد میں ایک ظاہری فرق بھی ہے۔سینٹر ایک ہال ہے۔مسجد میں گنبد بھی ہوتا ہے، مینارہ بھی ہوتا ہے اور مسجد کے نام سے ہی اس کا ایک علیحدہ تقدس بڑھتا ہے۔پہلے دورے میں جب میں نے آپ کو کہا تھا کہ یہاں با قاعدہ مسجد بنا ئیں۔تو ایک تو یہ مقصد تھا کہ مسجد کا مینارہ اور گنبد آپ کو یاد دلا تار ہے کہ ہم نے مال اور وقت کو قربان کرنے کے بعد جو مسجد بنائی ہے اس کا حق بھی ہم نے ادا کرنا ہے۔اور دوسرا یہ کہ مسجد کا مینارہ اور گنبد اردگرد کے ماحول کے لئے بھی قابلِ توجہ ہوتا ہے۔اور اس سے تبلیغ کے راستے بھی کھلیں گے۔لوگوں کی اس طرف توجہ پیدا ہوگی اور اسلام کی حقیقی تصویر دیکھنے کی تلاش میں لوگ یہاں آئیں گے یا ویسے تجسس میں آئیں گے۔یہ لوگ کیسے ہیں، کیسے مسلمان ہیں؟ ابھی تک میں نے یہی دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی جماعت احمدیہ مسلمہ کا تعارف کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور اس تعارف کی وجہ سے پھر اس مسجد کا حق ادا کرنے کی طرف