خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 598 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 598

خطبات مسرور جلد 11 598 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء کہ لا انتہا اخلاص ہے بے انتہا اخلاص اور محبت کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔یہ حالت دنیا میں اس وقت اس زمانے میں آج بھی، سو سال بعد بھی جماعت کے افراد کی ہے۔قطع نظر اس کے کہ کون کس ملک سے تعلق رکھتا ہے وفا اور اخلاص میں سب احمدی بڑھے ہوئے ہیں۔نیوزی لینڈ میں جو اس وقت جماعت کی تعداد ہے اس میں ساٹھ فیصد سے اوپر یہاں نجی سے آئے ہوئے لوگ ہیں اور تقریباً 23 فیصد پاکستانی مہاجر ہیں اور باقی دوسری قومیں ہیں۔گو یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے لیکن متفرق قوموں کے لوگ ہیں مگر اخلاص و وفا میں ہر ایک، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن یہ یادرکھنا چاہئے کہ صرف ظاہری اخلاص اور وقتی طور پر چاہے وہ وقت کی قربانی ہو یا مال کی قربانی ہو ، ایک حقیقی مومن کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ مستقل مزاجی سے نیکیوں پر قدم مارنا اور تقویٰ پر چلنا اورا اپنی پیدائش کے مقصد کو ہمیشہ یادرکھنا یہ ایک حقیقی مومن کی شان ہے، اور شان ہونی چاہئے۔اور مقصد پیدائش کے بارے میں خدا تعالیٰ نے جو ہمیں توجہ دلائی ہے اُسے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہمیں یاد دہانی کرواتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : دم گرچہ مختلف الطبائع انسان اپنی کوتاہ فہمی یا پست ہمتی سے، یعنی اگر اتنی سمجھ بوجھ نہ ہو یا ہمت چھوٹی ہو اس کی وجہ سے مختلف طور کے مدعا اپنی زندگی کے لئے ٹھہراتے ہیں اور فقط دنیا کے مقاصد اور آرزوؤں تک چل کر آگے ٹھہر جاتے ہیں۔مگر وہ مدعا جو خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں بیان فرماتا ہے وہ یہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الد ریت : 57) یعنی میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔پس فرمایا کہ اس آیت کی رُو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا کے لئے ہو جانا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414) پس یہ ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں آکر وقتی جوش اور جذبے کے تحت بعض قربانیاں کر لینا ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد مستقل مزاجی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور عبادت کے معیار اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو۔یہ علم ہو کہ خدا تعالیٰ تمام طاقتوں کا مالک ہے اور میرے ہر قول اور ہر فعل کو دیکھ رہا ہے اور نہ صرف ظاہری طور پر دیکھ رہا ہے بلکہ میرے دل کی گہرائی تک اس کی نظر ہے۔میری نیتوں کا بھی اُس کو علم ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوئیں۔اور جب یہ حالت ہو تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان کوشش کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ