خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 565
خطبات مسرور جلد 11 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء بات انہیں بری لگتی ہے اور مجھ سے ناروا سلوک کرتے ہیں اور حدیث کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں مردوں سے مصافحہ کی مناہی ہو۔ہم دونوں میاں بیوی ان حالات میں صبر سے گزارہ کر رہے ہیں۔دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنا الگ مکان عطا فرمائے جہاں آزادی سے امام الزمان علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کر سکیں۔پس یہ تبدیلی ہے جو اُن لوگوں میں پیدا ہو رہی ہے۔اب کسی احمدی کو، کسی لڑکی کو کسی بات میں کمپلیکس (complex) میں نہیں آنا چاہئے کہ مردوں میں بعض دفعہ ہمیں سلام کرنا پڑ جاتا ہے۔کوئی ضرورت نہیں سلام کرنے کی۔جب مردوں سے ہاتھ ملانا منع ہے تو اُس کی پابندی ہونی چاہئے۔اسی طرح مردوں کو بھی کوشش یہی کرنی چاہئے کہ عورتوں سے ہاتھ نہ ملائیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنا ہے تو پھر ہر چھوٹے سے چھوٹے حکم پر بھی ، جو بظاہر چھوٹا لگے عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر گوداوری جگہ کے ایک مبلغ صاحب لکھتے ہیں ، یہ غالباً انڈیا کے ہیں۔جماعت احمد یہ چٹیالہ میں غیر احمدی علماء اور چند شر پسندوں نے مشن ہاؤس پر حملہ کیا اور مسجد پر قبضہ کر لیا جس کو جماعت احمدیہ نے آباد کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس مسجد میں امامت ہم کریں گے، لیکن آپ لوگ مسجد میں آ کر نماز ڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے احباب کے دل میں سلسلہ کے لئے ایسی غیرت رکھی ہے کہ کسی بھی فرد نے اُن کا مقتدی ہونا پسند نہیں کیا۔اور ہر ایک نے اُن کے پیچھے نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا اور احمدیت پر ثابت قدم رہے۔پس یہ ایک مثال ہے دینی غیرت کی کہ ایسے لوگ جو زمانے کے امام کو نہیں مانتے ، اُس امام کو نہیں مانتے جس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہے تو پھر ایسے شخص کے پیچھے ہم کس طرح نماز پڑھ لیں۔ایسے شخص کو کس طرح امام بنالیں جو زمانے کے امام کا انکاری ہو۔ہم نے بندوں کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔اور اس بارے میں بھی احتیاط کرنی چاہئے۔خوش قسمت ہیں وہ جو بیعت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور جنہوں نے پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کی ہیں اور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک بیعت کا حق ادا کرنے والا بن جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درد کو جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے آپ علیہ السلام کے دل میں تھا، اُسے سمجھنے والا ہمیں بنا دے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”میں خوب جانتا ہوں کہ ان باتوں کا کسی دل میں پہنچا دینا میرا کام نہیں اور نہ ہی میرے پاس کوئی ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ سے میں اپنی بات کسی کے دل میں بٹھا دوں۔پھر فرماتے ہیں: ”ہزار ہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اور اخلاص میں تو بڑی ترقی کی ہے، مگر بعض اوقات پرانی عادات یا