خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 544
خطبات مسرور جلد 11 544 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4اکتوبر 2013ء لڑائی تو نہیں، اللہ تعالیٰ سے سچی صلح یہی ہے کہ اُس کے احکامات پر عمل کیا جائے اور اُس کی عبادت کا حق ادا کیا جائے ، اُس کے بندوں کے حقوق ادا کئے جائیں۔اور اس کی اطاعت میں واپس آجاؤ۔اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے اور اس سے بچنے والے وہی ہیں جو کامل طور پر اپنے سارے گنا ہوں سے تو بہ کر کے اس کے حضور میں آتے ہیں۔تم یا درکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں ساعی ہو جاؤ گے۔‘ کوشش کرو گے تو خدا تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کسان عمدہ پودوں کی خاطر کھیت میں سے ناکارہ چیزوں کو جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔اور کھیت کو خوش نما درختوں اور بار آور پودوں سے آراستہ کرتا اور ان کی حفاظت کرتا اور ہر ایک ضرر اور نقصان سے ان کو بچاتا ہے۔مگر وہ درخت اور پودے جو پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں، ان کی مالک پروانہیں کرتا کہ کوئی مویشی آکر ان کو کھا جاوے یا کوئی لکڑ ہارا ان کو کاٹ کر تنور میں پھینک دیوے۔سو ایسا ہی تم بھی یاد رکھو اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے تو کسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہ دے گی۔پر اگر تم اپنی حالتوں کو درست نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا ایک سچا عہد نہ باندھو تو پھر اللہ تعالیٰ کو کسی کی پروا نہیں۔ہزاروں بھیڑیں اور بکریاں ہر روز ذبح ہوتیں ہیں۔پر اُن پر کوئی رحم نہیں کرتا۔اور اگر ایک آدمی مارا جاوے تو کتنی باز پرس ہوتی ہے۔ایک انسان مارا جاتا ہے تو باز پرس ہوتی ہے، قانون پوچھتا ہے، لیکن جانور ذبح ہوتے ہیں، کوئی رحم نہیں کرتا۔سو اگر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بیکار اور لا پروا بناؤ گے تو تمہارا بھی ایسا ہی حال ہوگا۔چاہئے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ تا کہ کسی وبا کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہو سکے، کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر ہو نہیں سکتی۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنی باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔یہ میری وصیت ہے اور اس بات کو وصیت کے طور پر یا درکھو کہ ہرگز تندی اور سختی سے کام نہ لینا بلکہ نرمی اور آہستگی اور خلق سے ہر ایک کو سمجھاؤ۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 174-175 - مطبوعہ ربوہ ) پھر جماعت کو اخلاقی ترقی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ : ” پس ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں کیونکہ الاسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ مشہور ہے۔وہ