خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 526 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 526

خطبات مسرور جلد 11 526 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013ء اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کا فیض پانے والے ہوں اور آنے والی زندگی میں بھی ہم اللہ تعالیٰ کی جنت کے وارث ہوں۔اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے ہماری یہ دعائیں قبول فرمائے۔اس وقت میں جمعہ کی نماز کے بعد چند غائب جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک تو ایک شہید کا جنازہ ہے اور دو دوسرے وفات یافتگان ہیں۔جو ہمارے شہید ہیں، مکرم اعجاز احمد کیانی صاحب ابن مکرم بشیر احمد کیانی صاحب اورنگی ٹاؤن کراچی کے، ان کی 18 ستمبر کو شہادت ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔ان کو اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔تفصیلات کے مطابق مکرم اعجاز احمد کیانی صاحب 18 ستمبر 2013ء کی صبح ساڑھے سات بجے موٹر سائیکل پر ملازمت کے لئے روانہ ہوئے ، گھر سے نکلے۔ابھی کچھ دُور ہی گئے تھے کہ دیکھنے والوں کے مطابق ، عینی شاہد کے مطابق ایک سپیڈ بریکر پر جب موٹر سائیکل کی رفتار کم ہوئی تو دو موٹر سائیکل سوار آپ کے قریب آئے اور دو گولیاں آپ کی بائیں پسلیوں کے قریب فائر کیں جس سے آپ موٹر سائیکل سے نیچے گر گئے اور گرنے کے بعد اُٹھنے کی کوشش کی جس پر حملہ آوروں نے سامنے کی طرف سے آپ پر فائر کئے۔خود کو بچانے کے لئے بایاں ہاتھ انہوں نے آگے کیا جس پر حملہ آوروں نے آپ کے ہاتھ پر فائر کیا اور پھر آپ کے سینے پر تین گولیاں فائر کیں۔جب آپ گر گئے تو آپ کے سر پر پیچھے سے بھی ایک گولی فائر کی جس کی وجہ سے آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ گزشتہ ماہ 21 اگست کو آپ کے بہنوئی محترم ظہور احمد کیانی صاحب کو بھی اس علاقہ میں شہید کیا گیا تھا۔مکرم اعجاز احمد کیانی صاحب شہید کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد کے دو چا مکرم محمد یوسف کیانی صاحب اور مکرم محمد سعید کیانی صاحب کے ذریعہ ہوا۔آپ دونوں کو 1936ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ان کے والد کے دونوں ہی چا بڑے صاحب علم تھے، علم دوست تھے۔انہوں نے باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد بیعت کی توفیق حاصل کی تھی۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق پر یم کوٹ مظفر آباد آزاد کشمیر سے تھا۔شہید مرحوم یکم دسمبر 1984 ء کو کراچی میں پیدا ہوئے اور کراچی میں ہی انٹر تک تعلیم حاصل کی۔پھر پانچ سال قبل پاکستان ملٹری آرڈینس میں بطور سویلین ڈرائیور ملازمت اختیار کی۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 29 سال تھی۔شادی 2009ء میں ثوبیہ صاحبہ سے ہوئی جو راجہ عبدالرحمن صاحب آف کوٹلی کشمیر کی بیٹی تھیں۔شہید مرحوم انتہائی مخلص صلح جو، نرم خو اور خاموش طبیعت کے مالک تھے۔جماعتی خدمات کے حوالے سے ہمیشہ تعاون کرتے تھے۔جب