خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 525
خطبات مسرور جلد 11 525 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013ء پس حقیقی نیکیوں کی توفیق اور مقبول نیکیوں کی توفیق بھی اُسی وقت ملتی ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہو۔آپ باوجود کامیابیوں کی بشارتوں کے بڑے درد کے ساتھ اپنی اور اپنی جماعت کی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے دعائیں کیا کرتے تھے۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعائیں قبول بھی کیں ، آئندہ کی بھی بشارتیں دے دیں۔پھر بھی سجدوں میں تڑپ کر اور بے چینی سے دعا کیا کرتے تھے اور جب اس تڑپ کی وجہ پوچھی جاتی تھی تو فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، ایک تو اس کا خوف ہے۔دوسرے کیوں نہ اللہ تعالیٰ کے جو فضل مجھ پر ہوئے ہیں میں اُس کا شکر گزار بنوں۔اللہ تعالیٰ نے کتنے ہی انعامات سے نوازا ہے اور اُمت کے لئے کتنے وعدے دیئے ہیں۔اس پر میں کیوں نہ شکر گزاری کروں۔پس یہ وہ اُسوہ ہے جو آپ نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔حقوق العباد کا سوال ہے تو دنیاوی غرضوں سے پاک ہو کر بلا تخصیص ہر ایک کے آپ کام آرہے ہیں، ہر ایک کی مالی مددفرما رہے ہیں۔جو سوالی بھی آیا ہے اُس سوال کرنے والے کا سوال پورا فرمار ہے ہیں۔ہر ایک آپ کے رحم میں سے حصہ لے رہا ہے۔ہر ایک آپ کے پیار اور شفقت سے فیض پا رہا ہے۔پس آپ نے فرمایا اس طرح اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اُس کی عبادت کرو جس طرح میں کرتا ہوں، اُس کے عبد شکور بنو جس طرح میں شکر گزاری کرتا ہوں۔اس طرح عبد رحمن بنو جس طرح میں حق ادا کرتا ہوں۔جس طرح میں نے یہ نمونے قائم کئے ہیں تو تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہو گے۔اسی طرح جس طرح میں نے حقوق العباد کی ادائیگی کی ہے، اگر تم میرے اُسوہ پر چلتے ہوئے بے غرض اور بے نفس ہو کر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن جاؤ گے۔اگر صرف اپنی نیکیوں پر یہ سمجھتے ہوئے کہ میں بہت نیکیاں کر رہا ہوں، اپنی عبادتوں پر ہی اکتفا کرو گے یا اُنہی پر انحصار کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔پس سنت پر چلنے ، آپ کے اسوہ پر عمل کرنے کے لئے ہمیں اپنے نفسوں کے جائزے لینے ہوں گے۔خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اُس کا فضل مانگنا ہوگا کہ پتہ نہیں کونسا ہمارا عمل وہ معیار حاصل بھی کر رہا ہے یا نہیں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔پس ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عملوں کو اپنی رضا کے مطابق بھی بنائے اور پھر محض اور محض اپنے فضل سے انہیں قبول بھی کر لے۔ہمارے عمل ایسے نہ ہوں جو دنیا کی ملونیوں کی وجہ سے ہمارے منہ پر مارے جانے والے ہوں۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہم اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی جنت کو حاصل کرنے والے ہوں اور اپنے ہر عمل کو اس کی رضا کے مطابق ڈھال کر