خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 514
خطبات مسرور جلد 11 514 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء سب سے زیادہ دُور ظالم حاکم ہوگا۔(سنن الترمذی کتاب الاحکام باب ماجاء فی الامام العادل حدیث 1329) پھر ایک روایت میں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے، وہ اگر لوگوں کی نگرانی اپنے فرض کی ادائیگی اور اُن کی خیر خواہی میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔(صحیح البخاری کتاب الاحكام باب من استرعى رعية فلم ينصح۔حدیث 7151) پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس گھر میں کہتے ہوئے سنا تھا۔یہ دعا کی قسم ہی بنتی ہے ایک۔آپ نے فرمایا کہ اے اللہ ! میری امت میں سے جسے بھی کسی معاملے کا ولی الامر بنایا گیا اور اُس نے اُمت پر سختی برتی تو تو بھی اُس کے ساتھ سختی کا سلوک فرمانا اور جسے میری اُمت کے کسی معاملے کا ولی الامر بنایا گیا اور اُس نے اُمت پر نرمی کی تو تو بھی اُس پر نرمی کرنا۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب فضيلة الامام العادل وعقوبة الجائر۔۔۔حدیث نمبر 4722) تو یہ ہیں حُکام کے سوچنے کی باتیں،سربراہوں کے سوچنے کی باتیں کہ اللہ کا سایۂ رحمت اگر چاہئے ، مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے تو یقینا یہ خواہش بھی ہوگی ، تو پھر انصاف کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اگر بنا ہے تو ظلم بند کرنا ہوگا ، ذاتی مفادات سے بالا ہو کر اپنے فیصلے کرنے ہوں گے۔اگر جنت میں جانے کی خواہش ہے تو بلا تفریق ہر ایک کی خیر خواہی کرنی ہوگی ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا دوزخ تمہاری جگہ ہے۔اور پھر یہ جو آخری حدیث ہے، یہ دعا ہے کہ اے اللہ ! جو سختی کرنے والا امیر ہے اُس پر سختی کر اور جو نرمی کرتا ہے تو اُس پر نرمی کر۔یہ دعا تو ایک ایمان رکھنے والے کولرزا کے رکھ دیتی ہے۔اللہ کرے کہ ہمارے جو مسلمان حکمران ہیں ان کو عقل آئے اور یہ سوچیں اور سمجھیں۔پھر عوام کو آپ نے کیا حکم دیا کہ حکمرانوں کے ساتھ تم نے کیسا سلوک کرنا ہے، کیا رویہ رکھنا ہے؟ حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود سے سنا وہ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔نیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم برا سمجھو گے۔یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! پھر ایسے وقت میں آپ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اُس وقت کے حاکموں کو اُن کا حق ادا کرو۔( یہ سب کچھ دیکھنے کے