خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد 11 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء اطفال کی عمر کے اطفال کا نصاب پڑھ سکتے ہیں، خدام کی عمر کا وہ پڑھ سکتے ہیں، لجنہ والی لجنہ کا پڑھ سکتی ہیں یا نصاب آپس میں سمویا جا سکتا ہے۔جب جماعتی نظام کے تحت سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری وقف کو جماعتی شعبہ کے تحت ہی کام کر رہے ہیں تو امراء اور صدر ان کا کام ہے کہ ان کو اکٹھا کر کے ایسا معین لائحہ عمل بنائیں کہ یہ نصاب بہر حال پڑھا جائے۔خاص طور پر واقفین ٹو کو اس میں ضرور شامل کیا جائے۔پھر یہ جو وقف ٹو کا نصاب ہے اُس کو مختلف ممالک اپنی زبانوں میں بھی شائع کروا سکتے ہیں۔سویڈن نے اپنی زبان میں شائع کروایا ہے۔فرنچ میں شائع کرنے کے لئے فرانس والے اور ماریشس والے کوشش کریں۔اور یہ کوشش صرف زبانی نہ ہو۔یہ تو اطلاع فوری طور پر دیں کہ کون اس کا ترجمہ کر سکتا ہے اور دو مہینے کے اندراندر یہ ترجمہ ہو بھی جانا چاہئے۔واقفین ٹو کے مطالعہ میں روزانہ کوئی نہ کوئی دینی کتاب ہونی چاہئے۔چاہے ایک دو صفحے پڑھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب، جیسا کہ میں نے کہا، اگر وہ پڑھیں تو سب سے زیادہ بہتر ہے۔پھر اسی طرح خطبات ہیں سو فیصد واقفین کو اور واقفات نو کو یہ خطبات سننے چاہئیں۔کوشش کریں۔یہاں یو کے میں ایک دن میں نے کلاس میں جائزہ لیا تھا تو میرا خیال ہے دس فیصد تھے جو باقاعدہ سنتے تھے۔اس کی طرف شعبہ کو بھی اور والدین کو بھی اور خود واقفین ٹو کو بھی توجہ دینی چاہئے۔انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ وہ واقفین ٹو کے جو پروگرام بناتے ہیں، وہ Inter-active پروگرام ہونے چاہئیں جس سے زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔پھر اسی طرح ہر ملک کی جو انتظامیہ ہے وہ ایک کمیٹی بنائے جو تین مہینہ کے اندر یہ جائزہ لے کہ ان ملکوں کی اپنی ضروریات آئندہ دس سال کی کیا ہیں؟ کتنے مبلغین ان کو چاہئیں؟ کتنے زبان کے ترجمے کرنے والے چاہئیں؟ کتنے ڈاکٹرز چاہئیں؟ کتنے ٹیچر ز چاہئیں؟ جہاں جہاں ضرورت ہے۔اور اس طرح مختلف ماہرین اگر چاہئیں تو کیا ہیں؟ مقامی زبانوں کے ماہرین کتنے چاہئیں؟ تو یہ جائزے لے کر تین سے چار مہینے کے اندر اندر اس کی رپورٹ ہونی چاہئے اور پھر جو شعبہ وقف کو ہے وہ اس کا پرا پر فالواپ (Proper Follow Up) کرے۔بعض لوگ بزنس میں جانا چاہتے ہیں یا پولیس یا فوج میں جانا چاہتے ہیں یا اور شعبوں میں جانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے وہ بے شک جائیں لیکن وقف سے فراغت لے لیں۔یہ اطلاع کیا کریں۔پھر اسی طرح ہر ملک میں واقفین نو کے لئے کیرئیر گائیڈنس کمیٹی بھی ہونی چاہئے جو جائزہ لیتی رہے اور مختلف فیلڈز