خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 39
خطبات مسرور جلد 11 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء چھٹی بات جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جس کی طرف ایک واقف نو کو توجہ دینی چاہئے وہ عملی طور پر تبلیغ کے میدان میں کو دنا ہے۔اب بعض واقفات کو کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارے لئے جامعہ نہیں ہے۔یعنی ہم دینی علم حاصل نہیں کر سکتے۔اگر اپنے طور پر، جس طرح میں نے پہلے بتایا، پڑھیں تو اپنے حلقے میں جو بھی اُن کا دائرہ ہے اُس میں تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہوگی ، موقع ملے گا۔اُس کے لئے جب تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور موقعے ملیں گے تو پھر مزید تیاری کی طرف توجہ ہوگی اور اس طرح دینی علم بڑھانے کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔پس تبلیغ کا میدان ہر ایک کے لئے کھلا ہے اور اس میں ہر وقف ٹو کو کودنے کی ضرورت ہے اور بڑھ چڑھ کر ہر وقف نو کو حصہ لینا چاہئے اور یہ سوچ کر حصہ لینا چاہئے کہ میں نے اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے نہیں آ جاتی اور یہ احساس اور جوش ہی ہے جو دینی علم بڑھانے کی طرف بھی متوجہ رکھے گا اور تبلیغ کی طرف بھی توجہ رہے گی۔ساتویں بات ہر واقف زندگی کو، واقف نو کو خاص طور پر ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ اُس گروہ میں شامل ہے جنہوں نے دنیا کو ہلاکت سے بچانا ہے۔اگر آپ کے پاس علم ہے اور آپ کو موقع بھی مل رہا ہے لیکن اگر دنیا کو ہلاکت سے بچانے کا سچا جذ بہ نہیں ہے، انسانیت کو تباہی سے بچانے کا درد دل میں نہیں ہے تو ایک تڑپ کے ساتھ جو کوشش ہوسکتی ہے، وہ نہیں ہوگی اور برکت بھی ہوسکتا ہے اُس میں اُس طرح نہ پڑے۔پس اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے ہر درد مند دل کو اپنی کوششوں کے ساتھ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اور یہ درد سے نکلی ہوئی دعائیں ہیں جو ہمیں اپنے مقصد میں انشاء اللہ کامیاب کریں گی۔اس لئے ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری دعاؤں کا دائرہ صرف اپنے تک محدود نہ ہو، بلکہ اس کے دھارے ہمیں ہر طرف بہتے ہوئے دکھائی دیں تا کہ کوئی انسان بھی اُس فیض سے محروم نہ رہے جو خدا تعالیٰ نے آج ہمیں عطا فرمایا ہے۔ویسے بھی یا درکھنا چاہئے کہ ہمارے مقاصد کا حصول بغیر دعاؤں کے، ایسی دعاؤں جو سچے جذبے اور ہمدردی سے پر ہوں کے بغیر نہیں ہوسکتا۔پس یہ باتیں اور یہ سوچ ہے جو ایک حقیقی واقف کو اور وقف زندگی کی ہونی چاہئے۔اس کے بغیر کامیابی کی امید خوش فہمی ہے۔ان باتوں کے بغیر صرف واقف کو اور واقف زندگی کا ٹائٹل ہے جو ایسے واقفین کو نے اپنے ساتھ لگایا ہوا ہے۔اس سے زیادہ اس کی کچھ حیثیت نہیں۔اور صرف ٹائٹل لینا تو ہمارا مقصد نہیں، نہ اُن ماں باپ کا مقصد تھا جنہوں نے اپنے بچوں کو اس قربانی کے لئے پیش کیا۔پس جیسا کہ