خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 428

خطبات مسرور جلد 11 428 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء اگر زنا کے حوالے سے اس کی بات کریں تو یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی قرآن کریم میں دوسری جگہ پر معین سزا بھی ہے۔بہر حال یہ ایک ایسا گناہ اور بے حیائی ہے جس میں ملوث انسان اگر شادی شدہ ہے تو اپنے بیوی بچوں کے حقوق بھول جاتا ہے۔اس کو اس بے حیائی میں پڑ کر خیال ہی نہیں رہتا کہ میرے کیا حقوق ہیں۔اگر عورت ہے تو اپنے بچوں اور خاوند کے حق اور ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہی ہوتی، اُن کو بھول جاتی ہے۔اگر غیر شادی شدہ ہے تو معاشرے میں غلاظت اور بے حیائی پھیلانے کا مرتکب ہے۔غلط وعدے کر کے بعض لوگ ناجائز طور پر تعلقات قائم کرتے ہیں اور جب گھر یلو اور خاندانی دباؤ یا معاشرے کے دباؤ یا خود جھوٹے وعدے کی وجہ سے وہ تعلقات بیچ میں ٹوٹ جاتے ہیں تو مردوں کو تو زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمارا معاشرہ خاص طور پر جو ایشین معاشرہ ہے، وہ مردوں کی زیادہ پردہ پوشی کرتا ہے لیکن عورت کی زندگی برباد ہو جاتی ہیں۔اور اس کی مثالیں اخباروں میں عام آتی ہیں۔اور پھر ایسے تعلقات کی وجہ سے اولا د ہو جائے تو پھر ایسے لوگ جو ہیں وہ اولادکو اس کے حق سے محروم کر کے قتل اولاد کے مرتکب ہور ہے ہوتے ہیں۔یا ایسی اولا د قتل اولاد کے زمرہ میں آجاتی ہے۔یہاں ان ممالک میں تو اگر پتہ چل جائے تو قانون کچھ نہ کچھ حقوق دلانے کی کوشش کرتا ہے اور دلواتا ہے لیکن بہت سے ایسے ہیں جو اولاد کو عملا قتل کر دیتے ہیں۔اور غریب ملکوں میں تو کوئی حق بھی نہیں ہے۔اگر کوئی امیر آدمی ہے اور یہ بے حیائی اور فحاشی کے مرتکب ہوتے ہیں تو تو پھر کوئی قانون اُسے نہیں پوچھے گا۔ابھی دو دن پہلے ہی پاکستان کے حوالے سے اخبار میں یہ خبر تھی کہ اس طرح کسی کے ہاں ناجائز بچہ پیدا ہوا اور پھر الٹا پولیس نے اُس غریب عورت پر مقدمہ قائم کیا اور مرد کو کچھ نہیں کہا گیا کیونکہ وہ صاحب حیثیت تھا۔یہ تو اکا دُکا واقعات ہیں جو باہر نکل آتے ہیں۔یہ پتہ نہیں کہ کتنے ایسے واقعات ہیں جنہوں نے کئی خاندانوں کو برباد کر دیا ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کے حکموں سے دُوری کی وجہ سے ہے۔غیروں کو ہم کیا کہیں ، خود مسلمان کہلانے والے اور اسلامی قوانین کا نعرہ لگانے والے ملکوں کا یہ حال ہے کہ وہاں اس قسم کی بے حیائیاں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان فواحش کے قریب بھی نہ جاؤ۔یعنی ایسی تمام باتیں جو فحشاء کی طرف مائل کرتی ہیں اُن سے رُکو۔اس زمانے میں تو اس کے مختلف قسم کے ذریعے نکل آئے ہیں۔اس زمانے میں انٹرنیٹ ہے، اس پر بیہودہ فلمیں آجاتی ہیں، ویب سائٹس پر ، ٹی وی پر بیہودہ فلمیں ہیں، بیہودہ اور لغو قسم کے رسالے ہیں، ان بیہودہ رسالوں کے بارے میں جو پورنوگرافی وغیرہ کہلاتے ہیں اب یہاں بھی آواز اُٹھنے لگ گئی ہے کہ ایسے رسالوں کو سٹالوں اور دکانوں پر کھلے عام نہ رکھا جائے کیونکہ بچوں