خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 424

خطبات مسرور جلد 11 424 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء جواب نہیں دینا بلکہ اس کے مقابلے پر بھی تمہاری طرف سے رحم اور اطاعت کا اظہار ہونا چاہئے۔اب والدین کو حکم ہے کہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرو۔کوئی امر اس تربیت میں مانع نہ ہو۔غربت بھی اس میں حائل نہ ہو۔پس یہ والدین پر فرض کیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا ایسا خیال رکھو کہ وہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے مردہ نہ ہو جائیں۔اُن کی صحت کی طرف توجہ نہ دے کر انہیں قتل نہ کرو۔بعض ناجائز بچتیں کر کے اُن کی صحت برباد نہ کرو۔پس ماں باپ کو جب ربوبیت کا مقام دیا گیا ہے تو بچوں کی ضروریات کا خیال رکھنا اُن پر فرض کیا گیا ہے۔بچوں کو معاشرے کا بہترین حصہ بنانا ماں باپ پر فرض کیا گیا ہے۔کیونکہ اگر یہ نہ کیا جائے تو یہ اولاد کے قتل کے مترادف ہے۔کوئی عقل رکھنے والا انسان ظاہری طور پر تو اپنی اولا دکو قتل نہیں کرتا۔سوائے چند سر پھروں کے یا وہ جو خدا تعالیٰ کو بھول گئے ہیں، جن کی صرف اپنی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں، جن کی مثالیں یہاں ملتی رہتی ہیں، جن کا ذکر وقتاً فوقتاً اخبارات میں آتا رہتا ہے کہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر اپنے بچوں کو قتل کر دیا یا پھر ایسے واقعات غریب ممالک میں بھی ہوتے ہیں کہ ماں یا باپ نے بعض حالات سے تنگ آ کر بچوں سمیت اپنے آپ کو جلا لیا تو وہ ایک انتہائی مایوسی کی کیفیت ہے اور جنونی حالت ہے لیکن عام طور پر اس طرح نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس آیت کے مختلف معنے ہیں قتل کے مختلف معنے ہیں۔ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنی اولاد کی اگر صحیح تربیت نہیں کر رہے، اُن کی تعلیم پر توجہ نہیں ہے تو یہ بھی اُن کا قتل کرنا ہے۔بعض لوگ اپنے کاروبار کی مصروفیت کی وجہ سے اپنے بچوں پر توجہ نہیں دیتے ، انہیں بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے بگڑ رہے ہوتے ہیں۔اور یہ شکایات اب جماعت میں بھی پائی جاتی ہیں۔مائیں شکایت کرتی ہیں کہ باپ باہر رہنے کی وجہ سے کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے، گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے بچوں پر توجہ نہیں دیتے اور بچے بگڑتے جارہے ہیں۔خاص طور پر جب بچے teenage میں آتے ہیں ، جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں باپ کی توجہ اور دوستی کی ضرورت ہے۔میں پہلے بھی کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا چکا ہوں ، ورنہ باہر کے ماحول میں وہ غلط قسم کی باتیں سیکھ کر آتے ہیں اور یہ بچوں کا اخلاقی قتل ہے۔باپ بیشک سوتاویلیں پیش کرے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بچوں کے لئے ہی کر رہے ہیں لیکن اُس کمائی کا کیا فائدہ ، اُس دولت کا کیا فائدہ جو بچوں کی تربیت خراب کر رہی ہے۔اور پھر اگر یہ دولت چھوڑ بھی جائیں تو پھر کیا پتہ یہ بچے اُسے سنبھال بھی سکیں گے یا نہیں۔دولت بھی ختم ہو جائے گی اور بچے بھی۔پھر اس کی ایک صورت یہ بھی ہے اور یہ مغربی ممالک میں بھی پھیل رہی ہے، ہماری جماعت میں بھی کہ مائیں بھی کاموں پر چلی جاتی ہیں یا گھروں پر پوری توجہ نہیں دیتیں۔کسی نہ کسی بہانے سے ادھر ادھر پھر رہی ہوتی