خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد 11 423 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں اُن کے بزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہیئے۔اور اسی کی طرف یہ دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔وَقَطَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ) بنی اسرائیل : 24 ) یعنی تیرے رب نے چاہا ہے کہ تو فقط اُسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔اس آیت میں بت پرستوں کو جو بت کی پوجا کرتے ہیں، سمجھایا گیا ہے کہ بت کچھ چیز نہیں ہیں اور بتوں کا تم پر کچھ احسان نہیں ہے۔انہوں نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور تمہاری خوردسالی میں وہ تمہارے متکفل نہیں تھے۔اور اگر خدا جائز رکھتا کہ اُس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں۔اور ہر ایک شخص طبعاً یہاں تک کہ درند چرند بھی اپنی اولاد کو ان کی خوردسالی میں، یعنی چھوٹے ہوتے ” ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔پس خدا کی ربوبیت کے بعد اُن کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 213-214) یعنی وہ جو پالنے کا جوش ہے ، بچوں کی طرف نگہداشت کا جوش ہے، بچوں سے محبت اور پیار ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھ دیا گیا ہے۔پس یہ وہ مقام ہے جو والدین کا ہے جسے ہمیشہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مٹی میں ملے اُس کی ناک، مٹی میں ملے اُس کی ناک۔یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ دہرائے۔یعنی ایسا شخص بدقسمت اور قابل مذمت ہے۔صحابہ نے پوچھا کہ وہ کونسا شخص ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ شخص جس نے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر اُن کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکا۔“ (صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب رغم انف من ادرك۔۔۔حدیث نمبر (2551 پھر ان آیات میں جو اگلا حکم ہے اُس میں فرمایا کہ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم خَشْيَةً إِمْلَاقٍ (بنی اسرائیل : 32) کہ رزق کی تنگی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔اس کے بھی کئی معنی ہیں۔یہاں قرآن کریم کے احکام کی ایک اور خوبصورتی بھی واضح ہوتی ہے کہ پہلے اولاد کو کہا کہ تم نے والدین کی خدمت کرنی ہے، اُن سے احسان کا سلوک کرنا ہے، اُن کی کسی بات پر بھی اُف نہیں کرنا۔انسان کو اعتراض تو اُسی صورت میں ہوتا ہے جب کوئی بات بری لگے۔تو فرمایا کہ کوئی بات والدین کی بری بھی لگے تب بھی تم نے