خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 420
خطبات مسرور جلد 11 420 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء حضرت عزبات کے سامنے دائمی حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بحجر محبت ذاتیہ کے ممکن نہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک خاص حالت میں عاجزی اور انکساری سے اُسی وقت انسان کھڑا ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ سے ایک خاص ذاتی تعلق اور محبت ہو۔اس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے اور فرمایا اور محبت سے مراد یک طرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں۔“ جب انسان ایسی محبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی محبت کا جواب ملتا ہے تا بجلی کی آگ کی طرح جو مرنے والے انسان پر گرتی ہے اور جو اس وقت اس انسان کے اندر سے نکلتی ہے، بشریت کی کمزوریوں کو جلا دیں اور دونوں مل کر تمام روحانی وجود پر قبضہ کرلیں۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 218) یعنی جب گرج چمک والی بجلی انسان پر گرتی ہے تو وہ جل جاتا ہے۔انسان خاک ہو جاتا ہے۔اسی طرح محبت جو ہے یہ ایسی محبت ہونی چاہئے ، ایسی آگ ہونی چاہئے ، ایسی تپش ہونی چاہئے ، رمضان کے بھی ایک معنی تپش اور گرمی ہے، کہ جو انسان کی کمزوریاں ہیں، بد عادتیں ہیں اُن سب کو جلا دے اور تمام وجود پر روحانیت کا قبضہ ہو جائے۔یہ انسان کا مقصد ہے اور یہ مقصد ہے جس کے لئے رمضان کے مہینے میں سے ہمیں گزارا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی عبادت کا یہ معیار ہے جو ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا ہے۔اور جب یہ معیار حاصل ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت سب محبتوں پر غالب آ جاتی ہے تو پھر تمام قسم کے شرکوں سے انسان آزاد ہو جاتا ہے۔اللہ کرے کہ اس رمضان میں اللہ تعالیٰ ایسی عبادت کی توفیق عطا فرمائے کہ اُس کی محبت ہم میں قائم ہو اور وہ دائمی محبت ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے جو اگلا حکم فرمایا ، وہ یہ ہے کہ والدین سے احسان کا سلوک کرو۔یہ تر تیب بھی وہ قدرتی ترتیب ہے جو انسان کی زندگی کا حصہ ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات کے بعد اس دنیا میں والدین ہی ہیں جو بچوں کی پرورش اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔غریب سے غریب والدین بھی اپنے دائرے میں یہ بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ اُن کے بچوں کی صحیح پرورش ہو، اس کے لئے وہ عموما بے شمار قربانیاں بھی کرتے ہیں۔پس فرمایا کہ والدین سے احسان کا سلوک کرو۔ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفٍ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا