خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 419
خطبات مسرور جلد 11 419 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء اُنہیں کا فکر ر ہے تو وہ بھی ایک بت پرستی ہے۔بت پرستی کے یہی تو معنی نہیں کہ ہندوؤں کی طرح بت لے کر بیٹھ جائے اور اُس کے آگے سجدہ کرے۔حد سے زیادہ پیار و محبت بھی عبادت ہی ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 602 مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”اے لوگو! تم اُس خدائے واحد لاشریک کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا۔چاہیئے کہ تم اُس قادر توانا سے ڈرو جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو تمہارے لئے چھت بنایا۔اور آسمان سے پانی اُتار کر طرح طرح کے رزق تمہارے لئے پھلوں میں سے پیدا کئے۔سو تم دیدہ دانستہ انہیں چیزوں کو خدا کا شریک مت ٹھہراؤ جو تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحه 520 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) پھر آپ عبادت کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے یعنی پیدائش کا مقصد عبادت ہے۔جیسا کہ پہلے آیت آچکی ہے فرماتے ہیں کہ عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، کچھی کو دُور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی رُوح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے، تو اس میں خدا نظر آئے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اُس میں پیدا ہوکر نشو ونما پائیں گئے۔اگر دل صاف ہو جائے ، خالصۂ خدا تعالیٰ کی خاطر سب کچھ کرنے لگ جاؤ ، اُسی کو سب کچھ سمجھو، اُسی پر انحصار کرو تو پھر اُس میں خدا نظر آتا ہے اور اُس میں پھر خدا تعالیٰ کی محبت کے درخت نشو ونما پائیں گے۔اور وہ اثمار شیریں وطیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَائِم (الرعد : 36) کے مصداق ہوں گے۔“ پھر دوسری جگہ آپ نے اس کی یوں وضاحت فرمائی کہ : ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 347 مطبوعہ ربوہ )