خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد 11 جاتا ہوں۔396 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے تو میں ایسے روزہ دار کی جزا بن صل الله عَليه۔(صحيح البخارى كتاب التوحيد باب ذکر النبی و روایته حدیث نمبر (7538 یعنی روزہ دار کی جزا، ایسے روزہ دار کی جزا جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے روزہ رکھے، اُس کا اجر صرف خدا تعالیٰ کو ہی پتہ ہے کہ کیا دینا ہے۔یعنی بے شمار۔پھر اللہ تعالیٰ تو ایسا دیا لو ہے جب دیتا ہے تو بیشمار دیتا ہے۔پس یہ وہ روزے ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کو رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ، نہ کہ وہ روزے جن کا مقصد رمضان کی ایک رو، رمضان میں جو ا کا چلی ہوتی ہے جو تمام لوگ روزے رکھ رہے ہوتے ہیں سحری کے لئے اُٹھ رہے ہوتے ہیں۔اس رو میں بہتے ہوئے روزے رکھے جائیں۔صرف صبح سے شام تک بھوکا رہنا روزے کا مقصد نہ ہو بلکہ تقویٰ کی تلاش ہو۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول ہو۔وہ روزہ ہو جو ڈھال بن جائے۔وہ روزہ ہو جو ہر شر سے بچانے والا اور ہر خیر کے راستے کھولنے والا ہو۔وہ روزہ ہو جو صرف دن کا فاقہ نہ ہو بلکہ ذکر الہی کے ساتھ راتوں کو نوافل سے سجا ہوا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی راتوں کے نوافل کو بڑی اہمیت دی ہے۔آپ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں اُٹھ کر نماز پڑھتا ہے اُس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب تطوع قیام رمضان من الایمان حدیث نمبر 37) پھر روزہ صرف دینی شرور سے بچنے کیلئے اور خیر کے راستے کھولنے والا نہیں ہے بلکہ دنیاوی شر سے بچانے والا اور خیر کے راستے کھولنے والا بھی ہے۔مثلاً ایک خیر جس کو اب ڈاکٹر بھی تسلیم کرتے ہیں، سائنسدانوں کے ایک طبقہ نے بھی ماننا شروع کر دیا ہے کہ سال میں ایک مہینے کا جو کھانے پینے کا کنٹرول ہے وہ انسانی صحت کے لئے مفید ہے۔تو یہ خیر ہے، ایک بھلائی ہے جو اس روزے سے انسانی جسم کو حاصل ہوتی ہے۔پس نیت اللہ تعالیٰ کی رضا ہو تو جسمانی فائدہ بھی خود بخود پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے فوائد ہیں۔پھر روزہ جو تقویٰ کے حصول کے لئے رکھا جائے ، وہ رمضان جس میں سے تقویٰ کے حصول کے لئے گزرا جائے ، معاشرے کی خوبصورتی کا باعث بھی بنتا ہے۔ایک دوسرے کیلئے قربانی کی روح پیدا ہو جاتی ہے۔اپنے غریب بھائیوں کی ضروریات کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور یہ ہونی ضروری ہے کیونکہ