خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 344

خطبات مسرور جلد 11 344 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جون 2013ء اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مسلمان ہے جو ان آیات کے مطابق جو میں نے تلاوت کی ہیں یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں۔فرمایا کہ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ۔جو کوئی بھی اپنی تمام تر توجہ کواللہ تعالیٰ کی طرف پھیر کر اس کا اعلان کر دے کہ میں مسلمان ہوں تو یہی لوگ مسلمان ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ کوئی دوسرا یہ اعلان کرے کہ تم مسلمان ہو یا نہیں ہو، بلکہ ہر فر داپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا تابع بنا کر پھر اعلان کرے کہ میں اپنی مرضی سے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہوں اور ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے مجھ پر ڈالی ہے اُسے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔اور پھر دعویٰ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَهُوَ مُحْسِن۔وہ احسان کرنے والا ہو۔وہ تمام اعمال احسن طریق پر بجالائے جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔یہ ذمہ داری ہے جو اُٹھانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔اور ہر اُس برائی سے بچے جس سے رکنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اگر یہ حالت ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر پھر ایسے شخص پر پڑے گی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم ایسے ہو تو تم میں کسی قسم کا خوف اور غم نہیں ہونا چاہئے۔نیک اعمال پچھلے گناہوں سے بھی مغفرت کے سامان کر رہے ہوں گے اور نیک اعمال کا تسلسل اور با قاعدگی، برائیوں سے بچنا اور دین کو دنیا پر مقدم کرنا ، آئندہ کی غلطیوں سے بھی ایک مومن کو بچارہے ہوں گے۔خوف اور غم سے دور رکھنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ : واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سونپیں اور یا یہ کہ صلح کے طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔“ اسلام یہ ہے۔یہ چار چیزیں ہیں کہ کسی چیز کی قیمت پیشگی کے طور پر دی جائے ،کسی کو اپنا کام سپر د کیا جائے صلح کے لئے کوشش کی جائے اور ہر قسم کے جھگڑے والی باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور فرمایا کہ اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اِس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنَ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(البقرة: 113 ) یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ