خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد 11 329 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء پس ایک مؤمن جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان لانے والا ، اُس کو پڑھنے والا اور اُس پر عمل کرنے والا ہوں، تو پھر لاز ما قرآنِ کریم کی تعلیم کے مطابق اُس کی عبادتیں بھی اور اُس کے دوسرے اعمال بھی وہ اُس وقت تک نہیں بجالا سکتا ، جب تک اُس میں عاجزی اور انکساری نہ ہو۔یا اُس کی عاجزی اور انکساری ہی اُسے ان عبادتوں اور اعمال کے اعلیٰ معیاروں کی طرف لے جانے والی نہ ہو۔انبیاء اس مقصد کا پر چار کرنے ، اس بات کو پھیلانے ، اس بات کو لوگوں میں راسخ کرنے اور اپنی حالتوں سے اس کا اظہار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آتے رہے جس کی اعلیٰ ترین مثال ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں نظر آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا ہے۔اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں۔مگر تکبر بہت خطرناک بیماری ہے جس انسان میں پیدا ہو جاوے اس کے لیے روحانی موت ہے۔فرمایا ” میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ بیماری قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔متکبر شیطان کا بھائی ہو جاتا ہے۔اس لیے کہ تکبر ہی نے شیطان کو ذلیل و خوار کیا۔اس لیے مومن کی یہ شرط ہے کہ اُس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے ( یعنی سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ اُن کی عاجزی انتہا کو پہنچی ہوتی ہے) فرما یا اُن میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے۔“ (یعنی آپ کیسا سلوک کرتے ہیں؟) تو اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں۔“ (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ ) فرمایا : ” یہ ہے نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا۔اور یہ بات سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو گر دو پیش رہتے ہیں۔اس لیے اگر کسی کے انکسار وفروتنی کاتحمل و برداشت کا نمونہ دیکھنا ہوتو ان ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 437-438 مطبوعہ ربوہ ) سے معلوم ہوسکتا ہے۔“ پس یہ ہے اُس شارع کامل کا نمونہ جس کا اسوہ اپنانے کی امت کو بھی تلقین کی گئی ہے۔قرآنِ کریم جب ہمیں احکامات پر عمل کرنے کے لئے کہتا ہے تو اس کا کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں